غزل
غزل | اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب | فیصل عجمی

غزل
اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب
اولاد اور مال کے مارے ہوئے ہیں سب
سارا کمال دھوپ کی جادوگری کا ہے
غائب جو آسمان سے تارے ہوئے ہیں سب
یہ کائنات گہرے اندھیروں میں غرق تھی
جاری کہاں سے نور کے دھارے ہوئے ہیں سب
میں آبنائے وہم ہوں اور سات آسماں
آباد آ کے میرے کنارے ہوئے ہیں سب
یہ اور بات ہے کہ بنے خاکداں کا بوجھ
ہم لوگ آسماں سے اتارے ہوئے ہیں سب
بارش کی کیا مجال کہ اترے نہ ابر سے
پیڑوں نے اپنے ہاتھ پسارے ہوئے ہیں سب




