نظم

شہِ مات | ثمرین اعجاز

شہِ مات

بساطِ زندگی پر  

خاموشی سے بچھا اک کھیل تھا،  

سیاہ و سفید خانوں کی طرح  

ہماری صبح و شام تھیں

اور ہم؟  

محض مہروں کی صورت  

کبھی آگے بڑھائے گئے،  

کبھی قربانی کی نذر ہو گئے

تم تقدیر کے رخ پر کھڑے وزیر تھے،  

میں خوابوں کی وہ پیادہ  

جو ہر قدم پر خود کو ثابت کرتی رہی،  

کبھی انا کے گھوڑے نے  

میرے ارادے روند ڈالے،  

کبھی خواہشوں کا اونٹ  

مجھے خود سے دور لے گیا

بادشاہ کی بقا میں  

سب رشتے مہرے بنے،  

اور جذبے؛  

اک اک چال میں ہار گئے 

ہر موڑ پر مات کا اندیشہ،

اور ہر باری میں کسی امید کا قتل

میں چاہتی تھی  

کبھی چالیں بھی محبت سے چلی جائیں،  

لیکن افسوس!

اس شطرنج پر  

جذبات کا کوئی خانہ مقرر نہ تھا

خاموشیوں کی چال تیز تھی،  

اور وقت؛ 

کسی انا کے ہاتھوں  

شہ دینے کا ہنر جانتا تھا

اک دن  

جب سارے مہرے گر گئے، 

اور بساط خالی رہ گئی

میں نے جانا،  

یہ کھیل دراصل ہم سے نہیں،  

ہم پر کھیلا گیا تھا

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

1 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x