میری کہانی درختوں کی زبانی | ضیاء الرحمن فاروقی

میری کہانی درختوں کی زبانی
گزرے ہوئے لمحوں میں
زمان و مکاں کی وسعت
مجھے کوئی ٹھکانہ نہیں دیتی،
وقت میرے لیے
راستہ نہیں
دائرہ ہے
میں جب تھک کر گرنے لگتا ہوں
تو وحشت
مجھے زمین تک آنے نہیں دیتی،
جیسے گر جانا بھی
کسی پچھلی زندگی کی یاد ہو
جسے دہرانا منع ہو
میں جس شہر میں داخل ہوتا ہوں،
جس بستی میں پہلی بار قدم رکھتا ہوں،
وہ نئی نہیں لگتی—
یوں محسوس ہوتا ہے
جیسے یہ گلیاں
کسی اور جنم میں
میری منتظر رہی ہوں
یہ پہچان
یاد نہیں،
بلکہ یاد سے پہلے کی کوئی کیفیت ہے،
شعور کے کنارے پر
لرزتی ہوئی ایک پرچھائیں
جو کہتی ہے:
تم یہاں پہلے بھی تھے۔
کہیں فٹ پاتھ کی گھاس پر
بیٹھ کر
میں خود کو چھوڑ آیا ہوں،
کہیں دھند میں
اپنی سرد آہ کی سانس
بھول آیا ہوں
کہیں کچی بستیوں پر
مٹی کی مہک میں
اپنی مہک چھوڑ آیا ہوں،
جیسے وجود
اپنے ثبوت
ہر جگہ بانٹتا پھرے
وہ راستے
جنہیں میں نے کبھی نہیں دیکھا،
وہ مجھے پہچان لیتے ہیں،
چاہے وہ
صدیوں کی مسافت طے کرتے ہوئے
میرے گزرے ہوئے قدموں سے گزریں
میں جانتا ہوں
یاد ہمیشہ پیچھے نہیں ہوتی،
کبھی کبھی
یاد
آنے والے وقت میں
چھپی ہوتی ہے۔
میری سرد آہ
جو میں نے گزرتے ہوئے
ان درختوں پر چھوڑ دی تھی،
وہ درخت
وقت کے گواہ ہیں،
وہی
میری کہانی سنائیں گے
درختوں کی زبان میں،
جہاں جنم
اور انجام
ایک ہی لفظ ہیں




