ادب میں پرسیپشن اور صلاحیت ، ایک محاکمہ | ڈاکٹر رفیق سندیلوی

ادب میں پرسیپشن اور صلاحیت ، ایک محاکمہ | ڈاکٹر رفیق سندیلوی
پرسیپشن اور صلاحیت کی بحث اصلاً ادراکی نفسیات سے گہرا انسلاک رکھتی ہے۔ یہ نفسیات بتاتی ہے کہ انسانی ذہن معروضی نہیں، تعبیراتی ہے۔ عام طور پر انسانی اذہان اپنے فیصلوں میں پہلے سے موجود تعصبات اور بنے بنائے شارکٹس سے کام لیتے ہیں۔ اگر کسی شخص کا ابتدائی تاثر مثبت قائم ہو جائے تو اس کی اوسط درجے کی صلاحیت بھی غیرمعمولی دکھائی دینے لگتی ہے اور اگر پہلا تاثر منفی ہو تو اعلیٰ ترین صلاحیت بھی مشکوک محسوس ہوتی ہے۔ گویا ادراک حقیقت پر ایک فلٹر چڑھا دیتا ہے۔ اس مرحلے پر پرسیپشن صلاحیت کو نہ صرف ڈھانپ سکتی ہے بلکہ اس کی تعبیر بھی بدل سکتی ہے۔ لیکن کیا یہ برتری دائمی ہے؟ سماجی دنیا میں علامتی سطح پر تاثر خود ایک سرمایہ ہے جو انسان کو مواقع، رسائی اور اقتدار عطا کرتا ہے۔ سیاست میں یہ حقیقت اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ میکاولی نے حکمران کو نصیحت کی تھی کہ وہ نیک نظر آئے، خواہ فی الواقع نیک نہ ہو کیونکہ عوام کی نظر فیصلہ کن ہوتی ہے۔ اس تناظر میں پرسیپشن اقتدار کی کنجی بن جاتی ہے؛ عوام جسے قابل سمجھ لیں وہی قابل مانا جاتا ہے اور جسے مضبوط سمجھ لیں وہی مضبوط قرار پاتا ہے۔ تاہم یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا محض تاثر کسی نظام کو دیرپا بنیاد فراہم کر سکتا ہے؟ کاروباری دنیا، علمی میدان یا ریاستی نظم میں اگر حقیقی صلاحیت موجود نہ ہو تو تاثر زیادہ دیر تک اپنا جادو برقرار نہیں رکھ پاتا۔ کارکردگی کی آزمائش بالآخر نقاب اتار دیتی ہے۔ وقتی طور پر پرسیپشن دروازہ کھول سکتی ہے مگر اندر جانے اور وہاں ٹکے رہنے کے لیے صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ اگر کوئی نااہل محض اچھے تاثر کے بل پر منصب پا بھی لے تو پیچیدہ مسائل کے سامنے اس کی کمزوری آشکار ہو جاتی ہے، اور پھر وہی اجتماعی شعور جو پہلے اس کا حامی تھا، اس کے خلاف ہو جاتا ہے۔ فلسفیانہ سطح پر دیکھا جائے تو افلاطون نے ظاہر اور حقیقت میں فرق کیا تھا۔ اس کے نزدیک محسوس دنیا محض سایہ ہے اور اصل حقیقت جوہر میں ہے۔ اگر اس معیار کو اپنایا جائے تو صلاحیت جوہر کے قریب تر ہے اور پرسیپشن سایہ۔ لیکن جدید وجودی فکر میں سارتر نے انسان کو اس کے اعمال سے متعین کیا؛ یعنی وہی ہے جو وہ کرتا ہے۔ اس زاویے سے بھی بالآخر عمل یعنی صلاحیت کی فعلیت فیصلہ کن قرار پاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پرسیپشن اور صلاحیت کا تعلق مخاصمت کا نہیں بلکہ ترتیب کا ہے۔ پرسیپشن ابتدا میں قوت رکھتی ہے کیونکہ انسانی معاشرہ ادراک کے سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔ مگر وقت ایک کڑا منصف ہے؛ وہ تاثر کو آزمائش کی بھٹی میں ڈالتا ہے۔ اگر اس کے پیچھے حقیقی صلاحیت ہو تو تاثر مضبوط ہو جاتا ہے اور اعتماد میں بدل جاتا ہے، اور اگر نہ ہو تو وہ تحلیل ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ قرینِ انصاف ہوگا کہ پرسپشن فوری طاقت ہے اور صلاحیت بنیادی طاقت۔ پہلی بغیر دوسری کے عارضی ہے، اور دوسری پہلی کے بغیر اکثر غیر مرئی رہ جاتی ہے۔
یہ تمہید ڈاکٹر قاسم یعقوب کی دو اہم تحریروں "کیا پرسیپشن صلاحیت سے زیادہ طاقت ور ہے؟” اور "اندرونی اور بیرونی پرسیپشن”٭کے محاکمے لے لئے باندھی گئی ہے۔ اول الذکر تحریر میں پرسیپشن کو ایک ایسی خودمختار سماجی قوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو قراتی یا جمالیاتی اثر تک ہی محدود نہیں رہتی، متن کی سماجی شناخت اور بقا کا تعین بھی کرتی ہے۔ اس تحریر کے مطابق پرسیپشن خود بہ خود قائم نہیں رہتی، اسے مسلسل برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ فوکسڈ اور ٹارگٹڈ ہونا، دکھائی دینا اور اداروں، پلیٹ فارمز اور سماجی حلقوں کے ساتھ ربط رکھنا وہ عملی صورتیں ہیں جن کے ذریعے پرسیپشن قائم رہتی ہے۔ اس تناظر میں پرسیپشن ایک قدرتی قراتی عمل کے بجائے ایک سماجی حکمتِ عملی بن جاتی ہے اور جو فرد یا متن اس حکمتِ عملی سے باہر رہ جائے وہ رفتہ رفتہ سماجی حافظے سے محو ہو جاتا ہے، خواہ اس کی تخلیقی یا فکری صلاحیت کتنی ہی نمایاں کیوں نہ ہو۔ لیکن اسی مقام پر اس مؤقف کے اندر ایک ایسا تناؤ بھی نمایاں ہوتا ہے جس پر غور ضروری ہو جاتا ہے۔ اگر پرسیپشن کو اس حد تک خودمختار اور منتظم قوت مان لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی ابتدائی تحریک کہاں سے آتی ہے؟ کیا پرسیپشن محض اداروں، نیٹ ورکس اور حکمتِ عملیوں کی پیداوار ہے یا اس کے پیچھے وہی اندرونی تجربہ، معنوی انکشاف یا جمالیاتی اثر بھی کارفرما ہوتا ہے جو کسی متن کو پہلی بار کسی قاری یا ناقد کے لیے توجہ طلب بناتا ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہو جاتا ہے کہ اگر پرسیپشن کو مکمل طور پر بیرونی ماحول کا نتیجہ سمجھ لیا جائے تو متن کی داخلی ساخت، اس کی معنوی پیچیدگی اور قاری کے تجربے کی غیر متوقع جہات ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔
ادب کی تاریخ اس نکتے پر خاموش نہیں۔ بعض تخلیقات اپنے عہد میں اس لیے نمایاں نہ ہو سکیں کہ ان کا ذوقی اور فکری آہنگ اپنے زمانے کے مروجہ سانچوں سے ہم آہنگ نہ تھا، مگر بعد کے ادوار میں وہی تخلیقات نئے تناظر میں دریافت ہوئیں۔ کافکا کو ان کی زندگی میں وہ ادبی مقام حاصل نہ ہو سکا جو بعد میں جدید انسان کے وجودی اضطراب کی تعبیر کے طور پر انہیں ملا۔ اسی طرح ایملی ڈکسن کی شاعری اپنے عہد میں محدود حلقوں تک رہی، مگر بعد کی تنقید نے اسے امریکی شعری روایت کے مرکزی متون میں شامل کیا۔ اردو ادب میں مجید امجد کی مثال بھی اسی نوع کی ہے کہ ان کی معنوی گہرائی کو فوری سماجی پرسیپشن میسر نہ آ سکی، مگر وقت کے ساتھ ان کی شعری کائنات نئے قاری کے لیے روشن ہوتی گئی۔ یہ مثالیں اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ معنوی قوت کبھی کبھی فوری سماجی حکمتِ عملی سے آزاد ہو کر بھی اپنا راستہ بنا لیتی ہے، گویا پرسیپشن ہمیشہ خارجی انجینئرنگ کا نتیجہ نہیں بلکہ بعض اوقات متن کی داخلی توانائی اور تاریخی شعور کی تبدیلی سے بھی تشکیل پاتی ہے۔
قاسم یعقوب نے پرسیپشن کی طاقت کو جس قطعیت کے ساتھ پیش کیا ہے، وہ اسی لیے توجہ کھینچتی ہے کہ یہاں پرسیپشن ایک امکان کے بجائے ایک ناگزیر حقیقت کے طور پر دکھائی دیتی ہے۔ تاہم اسی قطعیت کے اندر یہ سوال بھی چھپا رہتا ہے کہ اگر پرسیپشن ہی سب کچھ ہے تو وہ لمحات کیسے پیدا ہوتے ہیں جب کوئی متن سماجی فریم سے ہٹ کر قاری کو متاثر کرتا ہے یا جب کوئی قرات قائم شدہ مقام، عظمت اور کینن کے تصور کو مشتبہ بنا دیتی ہے؟ یہ وہ مقام ہے جہاں پرسیپشن کی خودمختاری مکمل نہیں رہتی بلکہ کسی نہ کسی سطح پر متن اور قاری کے باہمی تعلق سے مشروط ہو جاتی ہے۔ پرسیپشن یہاں نہ محض فریب قرار پاتی ہے اور نہ ہی مطلق سچ بلکہ ایک ایسی قوت کے طور پر سامنے آتی ہے جو کبھی متن سے تحریک پاتی ہے، کبھی اداروں سے تقویت حاصل کرتی ہے اور کبھی سماج کی اجتماعی خواہش میں ڈھل جاتی ہے۔ شاید اسی لیے پرسیپشن کو نہ مکمل طور پر رد کیا جا سکتا ہے اور نہ بلا سوال قبول کیا جا سکتا ہے۔ اسے سمجھنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ اسے مسلسل سوال کے دائرے میں رکھا جائے کیونکہ جیسے ہی وہ حتمی سچ بننے لگتی ہے، وہی پرسیپشن ایک نئے جبر کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
دوسری تحریر "اندرونی اور بیرونی پرسیپشن” اس نکتے پر قائم ہے کہ ادبی قرات میں قاری کی پسند زیادہ تر سماجی طور پر تشکیل یافتہ بیرونی پرسیپشن کا نتیجہ ہوتی ہے جسے قاری اپنی ذاتی پرسیپشن سمجھ لیتا ہے۔ اگرچہ متن کی زبان، اسلوب اور معنوی جدت سے ایک اندرونی پرسیپشن پیدا ہوتی ہے، مگر عملی طور پر بیرونی یا سماجی پرسیپشن غالب رہتی ہے اور وہی متن کو عظمت، مقام اور کینن عطا کرتی ہے۔ خالص اندرونی قرات اس لیے کم یاب ہے کہ اجتماعی طور پر قبول کی گئی قرات حقیقت کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔ بڑا ناقد وہ ہوتا ہے جو اسی سماجی یا بیرونی پرسیپشن کے فریم ورک اور توقعات کو توڑ کر متن کو اپنی اندرونی پرسیپشن کی بنیاد پر نئے سوالات کے ساتھ پڑھتا ہے جس کے نتیجے میں متعین اور یکساں نتائج کے بجائے مختلف اور غیر متوقع نتائج سامنے آتے ہیں۔
غور کیجئے تو خارجی یا سماجی پرسیپشن کسی متن کے گرد معاشرتی اتفاق، تاریخی روایت اور ادبی فریم ورک کے مجموعے سے وجود میں آتی ہے۔ یہ خود رو نہیں،ایک مسلسل اجتماعی عمل ہے جس میں قاری، ناقد، نصاب، اشاعتی منڈی، ریاستی ادارے اور معاشرتی گفتگو، بہت کچھ شامل ہوتا ہے۔ اندرونی پرسیپشن اس عمل کا ابتدائی محرک بن سکتی ہے کیونکہ متن کی جمالیاتی یا معنوی جدت پہلے فرد کو متاثر کرتی ہے، مگر اجتماعی قبولیت کے بغیر یہ محدود رہتی ہے۔ جب اسے سماجی سطح پر تسلیم کر لیا جاتا ہے تو متن کو کینن، عظمت اور تاریخی تسلسل عطا ہوتا ہے، اور یوں وہ “larger than life” بنا دیا جاتا ہے۔ جہاں تک سیاسی اور ادارتی ڈھانچوں کا تعلق ہے، یہ خارجی پرسیپشن کے قیام میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ تعلیمی نصاب، اشاعتی وسائل، ادبی رسائل اور اعزازات کسی ادیب کی حیثیت کو غیر معمولی بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ متن کی داخلی قوت اہم ضرور ہے، مگر اکثر یہ فیصلہ سماجی اور سیاسی طاقتیں کرتی ہیں کہ کون سا متن کینن کا حصہ بنے گا اور کون حاشیے پر چلا جائے گا۔ جو متن اس مرحلے تک نہیں پہنچ پاتا، وہ ذاتی تجربے کے دائرے میں محدود رہ کر رفتہ رفتہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ قاری کے ذہن میں متن پڑھنے سے پہلے جو سماجی پرسیپشن قائم ہو جاتی ہے، وہ اس کے ذوق اور توقعات کو پہلے ہی متعین کر چکی ہوتی ہے۔ عموماً قاری پہلے سے قائم شدہ تاثر کی تصدیق کرتا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات کوئی قاری متن کو داخلی عناصر کی بنیاد پر پڑھنے کی کوشش کرتا ہے، مگر یہ کوشش نایاب بھی ہوتی ہے اور تنقیدی شعور کی محتاج بھی۔ مکمل آزادی کا دعویٰ اس لیے مشکل ہے کہ قاری کا باطن بھی سماجی تشکیل سے خالی نہیں ہوتا۔ بیرونی پرسیپشن بعض اوقات کلٹ جیسی صورت اختیار کر سکتی ہے، مگر یہ قاری کی داخلی پرسیپشن کو مکمل طور پر مٹا نہیں سکتی۔ متن کی اندرونی توانائی اور قاری کا ذاتی تجربہ ایک محدود مگر مؤثر مزاحمت برقرار رکھتے ہیں۔ اسی تناؤ میں تنقید کی حرکت قائم رہتی ہے۔ مجموعی طور پر دیکھیں تو خارجی پرسیپشن اندرونی پرسیپشن کی تابع مگر ایک غالب فریم کا درجہ رکھتی ہے۔ اندرونی پرسیپشن محرک ہو سکتی ہے مگر سماجی فریم کے بغیر متن کا مقام محفوظ نہیں رہتا۔ سیاسی اور ادارتی اثرات اسے مزید مستحکم یا مخدوش کر دیتے ہیں اور قاری کا آزادانہ داخلی تجربہ صرف انہی حدود میں ممکن رہتا ہے۔ یہی وہ فکری تانا بانا ہے جو اندرونی اور بیرونی پرسیپشن کی گفتگو کو آگے بڑھاتا ہے۔
یہاں جو سوال روکتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا اندرونی پرسیپشن واقعی ممکن ہے یا وہ بھی کسی نہ کسی درجے میں سماجی ہی ہوتی ہے؟ اگر خالص اندرونی پرسیپشن کی بات کی جائے تو سب سے پہلے یہ ماننا پڑے گا کہ قاری کبھی بھی متن کے سامنے خالی ذہن کے ساتھ حاضر نہیں ہوتا۔ زبان، معنی، ذوق، جمالیات اور حتیٰ کہ “نیا” یا “انقلابی” ہونے کا تصور بھی پہلے سے موجود سماجی اور تاریخی سانچوں میں ڈھلا ہوتا ہے۔ اس لیے جسے ہم اندرونی پرسیپشن کہتے ہیں وہ بھی مکمل طور پر ذاتی یا فطری نہیں بلکہ کسی نہ کسی درجے میں سماجی تشکیل کا نتیجہ ہے۔ متن قاری کو متاثر ضرور کرتا ہے، مگر یہ اثر ہمیشہ اس افق کے اندر وقوع پذیر ہوتا ہے جو سماج پہلے سے مہیا کر چکا ہوتا ہے۔ خالص اندرونی قرات اس معنی میں ایک مثالی امکان ہے، عملی صورت حال نہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اندرونی پرسیپشن بے معنی یا سراسر فریب ہے۔ فرق یہاں سے پیدا ہوتا ہے کہ قاری سماجی پرسیپشن کو کس حد تک غیر مشروط سچ مان لیتا ہے۔ عام قاری اسے اپنی پسند سمجھ کر قبول کر لیتا ہے، برا ناقد اسی کو معیار اور فیصلے کی آخری اتھارٹی بنا دیتا ہے جبکہ بڑا ناقد اسی سماجی پرسیپشن کو مشتبہ ٹھہرا دیتا ہے۔ وہ متن کو نہیں توڑتا بلکہ متن پر مسلط اس اتفاقِ عامہ، کینن اور توقعات کے فریم کو توڑتا ہے۔ وہ جان بوجھ کر اس مقام کو معطل کرتا ہے جہاں سے عظمت، اہمیت اور قدر کے فیصلے پہلے ہی صادر ہو چکے ہوتے ہیں، تاکہ متن سے وہ کچھ سن سکے جو سماجی شور میں دب گیا تھا۔ اسی عمل میں ناقد کو یہ شعور بھی حاصل رہتا ہے کہ اس کی اپنی قرات بھی حتمی نہیں، وہ بھی کسی نہ کسی درجے میں سماجی ہے۔ مگر یہی غیرحتمیت اس کی قوت بن جاتی ہے۔ اس کی تنقید فیصلہ صادر نہیں کرتی بلکہ سوال پیدا کرتی ہے، ایک بند معنی کو کھولتی ہے اور یہ امکان زندہ رکھتی ہے کہ متن کو کسی اور زاویے سے بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ یوں اندرونی پرسیپشن خالص نہیں رہتی مگر سماجی پرسیپشن کے جبر کے مقابل ایک تنقیدی امکان ضرور بن جاتی ہے۔
اس منزل پر پہنچ کر کچھ مزید سوالات ذہن میں قدرتی طور پر پھوٹتے ہیں لیکن یہ اب "کیا ہے” کے سوالات نہیں رہتے بلکہ "کیسے بنتا ہے، کون بناتا ہے اور کیوں مان لیا جاتا ہے” کے ہو جاتے ہیں: مثلاً یہ سوال کہ بیرونی یا سماجی پرسیپشن آخر کن اداروں، کن طبقات اور کن تاریخی لمحوں میں تشکیل پاتی ہے جس کی بنیاد پر فنکار کی "ادبی عظمت” کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر اندرونی پرسیپشن کبھی خالص نہیں ہو سکتی تو کیا ہر قرات محض پرانی سماجی پرسیپشن کی ایک نئی صورت ہے یا کچھ قراتیں واقعی اس تسلسل میں رخنہ ڈال سکتی ہیں؟ اسی تناظر میں یہ بھی غور طلب ہے کہ بڑا ناقد سماجی پرسیپشن کو توڑتا ہے، لیکن اس کا یہ عمل کب تک تخلیقی رہتا ہے اور کب محض ضد یا خودنمائی بن جاتا ہے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہر بڑے ناقد کی قرات مختلف ہوتی ہے تو تنقید کی سچائی کا معیار کیا رہتا ہے اور کیا کوئی داخلی منطق یا دلیل موجود رہتی ہے؟ کچھ متون جنہیں کینن بنانا مشکل ہوتا ہے، وہ سماجی پرسیپشن کی مزاحمت کیسے کرتے ہیں اور یہ مزاحمت خود متن کی جمالیات سے پیدا ہوتی ہے یا سماجی حدود سے؟ آخر میں یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ خود قاسم یعقوب کی تحریر جس پرسیپشن کے تصور کو پیش کر رہی ہے، کیا وہ کسی مخصوص سماجی لمحے اور تنقیدی روایت کی پیداوار نہیں، اور کیا اسے بھی اسی پیمانے پر پرکھنے کی ضرورت نہیں جس سے دوسروں کی قرات مشتبہ ہو جاتی ہے؟
یہ سوالات اس لیے ضروری ہیں کہ یہ سماجی پرسیپشن کی خود فہمیدگی کو توڑتے ہیں لیکن اگر ان کے جوابات کو قطعی صورت دے دی جائے تو وہ خود ایک نئی سماجی پرسیپشن میں بدل جائیں گے۔ یعنی جو سوال کینن کو مشتبہ بناتا ہے، اس کا حتمی جواب خود ایک نیا کینن بنا دے گا۔ اس اعتبار سے ان سوالات کا جواب لکھنا ضروری نہیں، ان سوالات کے اندر رہ کر بس لکھنا ضروری ہے۔ تنقید یہاں علم کی پیداوار نہیں، شعور کی تربیت بن جاتی ہے۔ بڑا ناقد ان سوالات کو اس طرح نہیں سلجھاتا کہ معاملہ ختم ہو جائے، وہ متن، روایت اور قاری کے درمیان تناؤ کو برقرار رکھتا ہے۔ وہ جواب دیتا بھی ہے تو اس انداز میں کہ اس جواب کے اندر اگلا سوال چھپا ہو۔ اسی لیے اہم بات یہ نہیں کہ ہم طے کر لیں کہ کینن کیسے بنتا ہے، بڑا ناقد کون ہے، یا اندرونی پرسیپشن ممکن ہے یا نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہر قرات میں یہ سوال زندہ رہیں مثلاً میں یہ بات کیوں مان رہا ہوں؟ یہ قدر کہاں سے آئی؟ اور اگر میں اس سے اختلاف کروں تو کیا واقعی متن مجھے وہاں لے جا رہا ہے یا میں کسی اور سماجی فریم میں داخل ہو رہا ہوں؟ لہذا کہا جا سکتا ہے کہ ان سوالات کے جواب ضروری بھی ہیں اور غیر ضروری بھی۔ ضروری اس حد تک کہ بغیر ان کے تنقید مردہ ہو جاتی ہے اور غیر ضروری اس حد تک کہ جیسے ہی وہ آخری جواب بن جاتے ہیں، تنقید پھر سے سماجی پرسیپشن کے جبر میں واپس چلی جاتی ہے۔
غور کیجئے کہ یہ بحث یہاں پر ختم نہیں، حقیقی معنوں میں یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ اب یہ نہیں پوچھنا پڑے گا کہ درست قرات کون سی ہے بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ ہر قرات کیا کچھ ممکن بناتی ہے اور کیا کچھ خارج کر دیتی ہے۔ جب اس بات کا علم ہو کہ جو بھی کہا جا رہا ہے، وہ کسی نہ کسی پرسیپشن کی پیداوار ہے اور اسی لیے قابلِ سوال ہے۔ یہیں سے متن، قاری اور ناقد کے درمیان ایک مسلسل کشمکش جنم لیتی ہے۔ متن بند نہیں ہوتا، سماجی پرسیپشن مکمل طور پر ٹوٹتی نہیں اور اندرونی پرسیپشن بھی خالص نہیں رہ پاتی مگر یہی بات تنقید کو حرکت میں رکھتی ہے۔ اگر بحث کو یہاں بند کر دیا جائے تو اسے نتیجہ مل جائے گا اور نتیجہ ملتے ہی وہی بحث ایک نئے کینن میں ڈھل جائے گی۔ اس لیے درست بات یہ ہے کہ یہ بحث ختم نہیں ہوتی بلکہ ہر سنجیدہ قرات میں خود کو نئے سرے سے دہراتی ہے۔ جب بھی کسی متن کو "عظیم” کہا جائے، جب بھی کوئی فہرست بنے، جب بھی کوئی ناقد کسی فیصلے کے ساتھ سامنے آئے، یہ سوال خاموشی سے واپس آ جاتا ہے کہ کیا یہ اندرونی قرات ہے یا سماجی پرسیپشن کا نیا روپ؟



