نظم
بے آواز شہر میں صدا | ضیاء الرحمن فاروقی

بے آواز شہر میں صدا
نگر میں شام ہو چکی ہے
اجنبی مسافت کی تھکن سے پاؤں شل ہیں
ایک بند گلی میں
جہاں تمام کواڑ مقفل ہیں
دیمک زدہ دروازے
بے رحم مسافت کی دہائی دے رہے ہیں
مکڑی کے جالوں کی بنت سے یوں لگتا ہے
جیسے صدیوں سے یہ دروازے بند ہوں
بے آواز گلی کوچوں میں
صرف میرے ہی قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے
اچانک تیز ہوا چلتی ہے
اور ایک گھر کے بند کواڑ
کھل جاتے ہیں
گھر کے سامنے
ایک دیو آسا شجر ہے
دیواروں کی دراڑوں میں پھنسی مٹی پر
گھاس اگ آئی ہے
کھلے کواڑ سے
کچھ بوسیدہ اوراق اڑتے ہیں
میں ان اوراق کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں
مگر بے رحم وقت
ان پر لکھی تحریر کو دھندلا چکا ہے
یہ ایک نامکمل کہانی ہے
کچھ نامکمل کردار ہیں
میں اس کہانی کو مکمل کرنے کے لیے
انہیں صدائیں دیتا ہوں
مگر سنسان راستوں کی دیواروں سے ٹکرا کر
میری ہی صدا
میرے پاس لوٹ آتی ہے



