
افسانہ
عنوان: دھند کی آغوش
کمرہ مکمل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایک قدیم راکنگ چیئر پر وہ اپنے وجود کو دھند میں گم کیے آہستہ آہستہ جھول رہی تھی۔ باہر دسمبر کی سرد رات اپنی پوری خنکی کے ساتھ پھیلی ہوئی تھی اور دھند نے ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ ویسی ہی ایک دھند اس کے باطن میں بھی اتر آئی تھی، جو اسے آہستہ آہستہ اپنے حصار میں لے رہی تھی۔
وہ اس لمحے اپنے وجود سے بھی بے نیاز تھی، جیسے کسی گھور کالی رات میں بھٹک گئی ہو۔ نہ شال کی پروا، نہ لحاف کی طلب—بس ایک بے خودی تھی اور خاموش جھولا۔ آنکھیں بند کیے وہ اپنے ہی خیالوں کی گہرائی میں اترتی جا رہی تھی۔
اچانک اسے یوں محسوس ہوا جیسے یہ دھند آنکھوں میں اتر رہی ہو۔ اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ اسے لگا جیسے دھند کی تہوں میں سے کوئی اس کی طرف بڑھ رہا ہو۔ دل میں ایک انجانا خوف جاگا۔
“شاہ وار احمد! میں تمہیں کھونے کی ہمت نہیں رکھتی… ابھی تو میں نے تمہیں پایا بھی نہیں تھا۔”
آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ خود سے سوال کرنے لگی:
“کیوں میں نے چاند کو چھونے کی خواہش کی؟ کیوں تمہیں میرے کہنے پر وہ راستہ اختیار کرنا پڑا؟”
پچھتاوے کی ایک لہر اس کے وجود میں دوڑ گئی۔
اسے وہ دن یاد آیا جب اس نے پہلی بار شاہ وار کو دیکھا تھا—اپالو کے مجسمے کی مانند حسین، باوقار اور معصوم۔ ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار، سنجیدہ اور بااصول۔ عائزہ خود بھی حسن اور دلکشی میں کم نہ تھی، مگر اس کے اندر بلندیوں کو چھونے کی ایک بے قابو خواہش پل رہی تھی۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود وہ اعلیٰ طبقے کا حصہ بننے کا خواب دیکھتی تھی۔
شاہ وار اسے اپنی منزل لگا۔
اپنی دلکش اداؤں سے اس نے اسے متاثر کیا اور رفتہ رفتہ اسے اپنا اسیر بنا لیا۔ ملاقاتیں ہمیشہ کسی پانچ ستارہ ہوٹل کے ریستوران میں ہوتیں۔ اسے احساس ہی نہ ہوا کہ وہ محبت نہیں، ایک خواب کا تعاقب کر رہی ہے۔
جب اسے معلوم ہوا کہ شاہ وار بھی متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے اور محنت سے اس مقام تک پہنچا ہے، تو اس کے اندر کی بے صبری اور بڑھ گئی۔ وہ اسے مزید ترقی کے “آسان راستے” سمجھانے لگی۔ وہ جتنا انکار کرتا، وہ اتنا ہی اصرار کرتی۔ شاہ وار اپنے عہدے کا ناجائز استعمال نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کے والدین کی دی ہوئی تربیت نے اسے اصولوں پر قائم رہنا سکھایا تھا۔
لیکن عائزہ خود نمائی اور حرص میں مبتلا تھی۔ گھر والوں سے چھپ کر اس نے یہ سب تعلقات استوار کیے تھے۔
ایک دن شاہ وار نے اسے اپنے ایک دوست کے ساتھ کیفے سے نکلتے دیکھ لیا۔ وہ چونک گیا۔ اس نے عائزہ کے گلے میں وہی سونے کی چین دیکھی جس میں ننھا سا ہیرے کا لاکٹ تھا—جو اس کے دوست نے اسی کے سامنے اپنی گرل فرینڈ کے لئے خریدا تھا۔ اس لمحے حقیقت کی دھند چھٹ گئی۔
اس نے دل ہی دل میں سوچا،
“یہ لڑکی تتلی کی طرح ہے… کسی ایک پھول پر نہیں ٹھہر سکتی۔” اب اسے سمجھ آ گئی تھی کہ اسے کیا کرنا ہے ۔اگلی شام عائزہ نے ریستوران میں ملاقات طے کی تھی ۔
شاہوار نے بات مان لینے کا ڈراما رچایا۔۔ اسے بتایا کہ وہ اپنے باس کی فائل چرا لے گا۔ اور دوسرے دن اس نے فون کیا—
“میں پکڑا گیا ہوں… فائل چوری کرتے ہوئے۔ وکیل کو فون کرنے کا بہانہ کر کے تمہیں کال کر رہا ہوں۔”
فون بند ہو گیا۔ شاہوار نے عائزہ جیسی فراڈ لڑکی سے جان چھڑا لی ۔
عائزہ کے ہاتھ سے موبائل گر پڑا۔ وہی دھند پھر سے اتر آئی۔ مگر اس بار دھند اس کے پچھتاوے کی تھی ۔




