غزل
غزل | یہ الگ بات کم پہنچتے ہیں | مبشر رحمان

غزل
یہ الگ بات کم پہنچتے ہیں
آپ دیں حکم، ہم پہنچتے ہیں
پھول اتنا گِرا ہوا نہ سمجھ
کتنے بھنوروں کے دم پہنچتے ہیں
آنکھ آئی پہ آ گئی تو گئی
دل پہ جتنے ستم پہنچتے ہیں
آپ خوش ہونے کا ارادہ کریں
اور اتنے میں غم پہنچتے ہیں
رکھ لیا ہے سامانِ زیست جہاں
ہاتھ اپنے بھی کم پہنچتے ہیں
گلشنِ دل میں بوئیے گندم
عاشقانِ اِرم پہنچتے ہیں




