نظم
Toothbrushes in a Poem | اویس ضمؔیر
Toothbrushes in a Poem
(سانیٹ)
شاید مَیں قلم عشق پہ اِک دن تو اٹھاؤں
شاید مَیں تِرے حسن کو منظوم بھی کر لوں
شاید کہ شبِ ہجر کو اشعار میں بھر لوں
شاید کہ تِرے غم سے مَیں اوراق سجاؤں
دیں نالہ و فریاد کی الفاظ گواہی
کچھ شہرِ کشاکش کا یہ احوال رقم ہو
کچھ حبسِ فضا سے مِرا قرطاس بھی نم ہو
کاغذ پہ شب و روز کی کچھ اترے سیاہی
اندیشہ و ایہام کو دے سکتا ہوں پیکر
احلامِ پریشان کی کر سکتا ہوں تعبیر
منظر کی بنا سکتا ہوں خوش رنگ سی تصویر
تجرید سے ظاہر کو مٹا سکتا ہوں یکسر
ہر شے کو زبردستی مگر نظم کروں کیوں؟
اب ٹوتھ برش کو مَیں معانی بھلا کیا دوں؟
* امریکی شاعرہ سِلوِیا پلیتھ کا انٹرویو کے دوران بے ساختہ اعتراف،
"I can’t put toothbrushes in a poem….”




