اعزاز، تخلیق اور تحسین کی دلکش محفل/ رپورٹ : سیدہ عطرت بتول نقوی
کل آٹھ فروری کو پنجاب یونیورسٹی ایگزیکٹو کلب میں ایک باوقار اور شاندار نشست منعقد کی گئی، جس کا اہتمام یاسر پبلیکیشنز کی بانی اور اونر، باصلاحیت فاطمہ شیروانی نے کیا۔ یہ تقریب دعا عظیمی کی تصنیف "فریم سے باہر” کو رائٹر گلڈ ایوارڈ ملنے کی خوشی میں اور یاسر پبلیکیشنز سے شائع ہونے والی معروف ادیب سلمان باسط صاحب کی کتب اور سعید اختر ملک کی افسانوں کی کتاب کی تقریبِ پذیرائی کے سلسلے میں منعقد کی گئی، جو بہت مقبول ہوئیں۔
تقریب کی صدارت سلمہ اعوان صاحبہ نے کی۔ مہمانانِ خصوصی میں سلمان باسط صاحب، غلام حسین ساجد صاحب اور سعید اختر ملک صاحب شامل تھے۔ ان تمام معزز مہمانوں نے کتابوں پر نہایت عمدہ گفتگو کی۔ خاص طور پر تقریب میں شامل سینئر ادیب حسین مجروح صاحب نے نہایت سیر حاصل تبصرہ کیا اور بہت مؤثر اور مدلل انداز میں اظہارِ خیال فرمایا۔ انہوں نے سلمان باسط صاحب کی کتاب "خاکی خاکے”، دعا عظیمی کی کتاب "فریم سے باہر” اور سعید اختر ملک صاحب کی کتاب "سوچ دلاں” پر نہایت باریک بینی سے روشنی ڈالی۔
سلمان باسط صاحب نے اپنی کتاب "خاکی خاکے” سے ایک خاکہ پڑھ کر سنایا جس سے محفل زعفران زار بن گئی۔ تقریب کے شرکاء کو بھی اظہارِ خیال کا موقع دیا گیا اور آخر میں سلمہ اعوان صاحبہ نے صدارتی خطبہ پیش کیا۔
یہ تقریب ہر لحاظ سے شاندار رہی۔ فاطمہ شیروانی نے نہایت عمدہ ڈنر کا انتظام کیا تھا، کھانا بہت لذیذ تھا۔ آخر میں کیک بھی کاٹا گیا اور شرکاء کو کتب بطورِ تحفہ پیش کی گئیں۔
موسم بے حد خوشگوار تھا۔ یونیورسٹی ایگزیکٹو کلب کا جگمگاتا ہوا خوبصورت ہال، دلکش پینٹنگز اور نفیس فرنیچر سے مزین کوریڈور، اور سرسبز لان میں رات کی خنکی اور فسوں نے سماں باندھ دیا تھا۔
شرکاء میں حسین مجروح، اشفاق احمد ورک، غلام حسین ساجد، سلمان باسط، محمود ظفر ہاشمی، قرۃ العین شعیب، روزینہ زرش بٹ، مریم چوہدری، ڈاکٹر عظمیٰ، ثروت جہاں، زرقا فاطمہ، عطرت بتول، دعا عظیمی، سلمہ اعوان، فاطمہ شیروانی اور رقیہ اکبر چوہدری شامل تھیں۔
دعا عظیمی اور فاطمہ شیروانی کو دلی مبارکباد۔ اللہ تعالیٰ لکھنے والوں کے قلم کو ہمیشہ رواں رکھے اور فاطمہ شیروانی کو، جو ہمارے ملک کی مایہ ناز پبلشر ہیں، دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ آمین۔




