غزل
غزل | زیادہ پھیلی ہوئی بستیوں سے ڈرتا ہوں | حارث بلال
غزل
زیادہ پھیلی ہوئی بستیوں سے ڈرتا ہوں
میں اپنے عہد کی تنہائیوں سے ڈرتا ہوں
یہ پھول توڑنے والوں کی جیت ہے شاید
میں کھلکھلاتی ہوئی بچیوں سے ڈرتا ہوں
گزر گیا ہے کوئی ایسا حادثہ گھر سے
سفر پہ جاتی ہوئی گاڑیوں سے ڈرتا ہوں
شجر کے سائے میں پودا شجر نہیں بنتا
میں ایک حد سے بڑی ہستیوں سے ڈرتا ہوں
ندی تو رکھتی نہیں ہے کسی کو دھوکے میں
میں پار جاتی ہوئی کشتیوں سے ڈرتا ہوں
جناب خود تو مرے جرم کو سمجھ لیں گے
میں آنجناب کے درباریوں سے ڈرتا ہوں
اگر وہ بجھ کے بھی روشن رہے تو کیا ہوگا
ہوا کے ساتھ کھڑا ہوں ، دیوں سے ڈرتا ہوں





کیا کہنےپ
کیا کہنے