تحقیقی کالم

”جیب“ پھٹتا ہے کہ پھٹتی ہے؟ | باسط پتافی

”جیب“ پھٹتا ہے کہ پھٹتی ہے؟

”جیب“ در اصل دو لفظ ہی ہیں جو لکھنے میں ایک مگر پڑھنے میں الگ الگ ہیں لیکن ہمارے یہاں کوئی خاص فرق نہیں رکھا جاتا۔

”جِیب“ یائے مجہول کے ساتھ اور دوسرا لفظ ”جَیب“ یائے لین کے ساتھ ہے بہ ہر حال بولنے میں تسامح تو ہوتے رہتے ہیں مگر ان دو لفظوں میں سے ایک مذکر ہے اور ایک مونث

جَیب کے معنی ”گریبان“ کے ہیں اور یہ مذکر استعمال کیا جاتا ہے یعنی یہ پھٹتا رہتا ہے اس کے مذکر کی مثال میں غالب کا مصرع ملاحظہ کیجیے

 

ع ہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے

 

اسے ”ہماری“ پڑھنے کا تکلف نہ کیا جائے جو کہ بسا اوقات دیکھنے میں آیا ہے۔

دوسرا ”جِیب“ مونث ہے جس میں آپ پیسے رکھ کر گھومتے پھرتے ہیں اور جیب کترا ہاتھ صاف کر کے چلا جاتا ہے۔۔

جون ایلیا کی نظم ”سفر کے وقت“ سے شعر دیکھیے

یہ ڈائری ہے اور اس میں پتے ہیں اور نمبر 

اسے خیال سے بکسے کی جیب میں رکھنا 

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x