غزل
غزل | کچھ ایسے چارہ گر کو درپئے آزار کرتے ہیں | عبداللہ ندیم
غزل
کچھ ایسے چارہ گر کو درپئے آزار کرتے ہیں
ہم اپنے آپ کو پوری طرح بیمار کرتے ہیں
بہم پہنچائی ہے مشق ِ جنوں اس طور سے گھر میں
تماشا بے جھجک اب ہم سرِ بازار کرتے ہیں
شبِ فرقت یہ عالم ہے گھڑی کی سوئیوں کو ہم
کبھی اِس پار کرتے ہیں کبھی اُس پار کرتے ہیں
اٹھائے پھر رہے ہیں خیمۂ جاں اک زمانے سے
ذرا سی دیر رک کر اب کہیں گھر بار کرتے ہیں
حوالے ان کے کر کے آگئے ہیں رازِ سر بستہ
بس اب یہ دیکھنا ہے کیا در و دیوار کرتے ہیں




