رولاں بارت کے مصنف کی موت | باسط پتافی
رولاں بارت کے مصنف کی موت
رولاں بارت (1915–1980) ایک فرانسیسی ادیب، ماہرِ لسانیات، نقاد اور نظریہ ساز تھے جو ساختیات کے اہم مفکر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ بعض نے انہیں ساختیاتی تنقید کے بنیاد گزاروں میں شمار کیا ہے۔
رولاں بارت کا فکری ارتقاء سامنے رکھنا ضروری ہے تاکہ ہم ان کے زیر بحث مضمون ( The Death of Author = مصنف کی موت) کا مزید گہرائی سے تجزیہ کر سکیں۔
بارت کی فکر میں پہلی توجہ لکھنے والے ہی کو دی گئی اور اس کو دو میں تقسیم کیا:
الف) مصنف (Ecrivain)
ب) محرّر (Ecrivant)
"مصنف” ایسا لکھنے والا ہوتا ہے جو ادب کو ادب ہی کی وجہ سے تخلیق کرتا اور لکھتا ہے جبکہ "محرّر” ادب کو اپنے مقاصد اور پیغامات کی خاطر ذریعہ بناتا ہے۔
گویا ہم کہہ سکتے کہ ادب برائے ادب والا مصنف ہے اور ادب برائے زندگی والا محرّر ہے۔
پہلی قسم رولاں بارت کے نزدیک برتر اور دوسری قسم کم تر سطح کی ہے۔
یہ رولاں بارت کا ابتدائی دور ہے جس میں مصنف ابھی زندہ ہے لیکن اس کے بعد دوسرا دور شروع ہوتا ہے جہاں مصنف پس پردہ گم ہو جاتا ہے اور رولاں بارت کا سارا زور "متن” پر چلا جاتا ہے اور اس کو بھی دو قسموں میں منقسم کرتا ہے جس میں پہلی قسم کم تر اور دوسری قسم برتر ہے:
الف) صارفانہ متن (Readerly Text)
ب) تخلیق کارانہ متن (Writerly Text)
"صارفانہ متن” ایسی تحریر ہے جس کو قاری شروع سے آخر تک گویا ایک سانس میں پڑھ جاتا ہے جس میں قاری ایک صارف (Consumer) بن جاتا ہے۔
پس یہ ایک ایسا متن ہے جس کے معنی متعین ہوتے ہیں اور متعین معنی کے رستے پر قاری چلتا ہوا منزل تک پہنچتا ہے۔
اس کے برعکس "تخلیق کارانہ متن” قاری کو معنی میں شریک کرتا ہے جہاں قدم قدم پر قاری کو رکنا اور آگے بڑھنا پڑتا ہے لہذا ایسے متن کے معنی متعین نہیں ہوتے بلکہ قاری کی شرکت سے بنتے ہیں اور ایسا متن قاری کو تخلیق کار بنا دیتا ہے۔
اس کے بعد رولاں بارت مصنف اور متن کو چھوڑ کر قاری کی طرف لپکتے ہیں اور اسے دو حصوں میں بانٹتے ہیں:
الف) ایسا قاری جو متن سے عام سی لذت (Pleasure) کشید کرتا ہے۔
یہ متن کو ایک ہموار، آسان اور خوشگوار تجربے کے طور پر پڑھتا ہے۔
ب) ایسا قاری جو متن سے غایتِ انبساط (Jouissance) حاصل کرتا ہے۔
یہ وہ قاری ہے جو متن سے جھٹکا، خلل، بے آرامی، عقلی چیلنج اور معنی کی شکست چاہتا ہے۔
اس تقسیم میں پہلی قسم کم تر جبکہ دوسری قسم برتر ہے۔
ان سب تقسیمات کے بعد وزیر آغا لکھتے ہیں:
"تاہم دیکھنے کی بات یہ ہے کہ بارت نے اپنے اس سارے سفر کو ایک Text تصور کرتے ہوئے اس سے لذت کشید کرنے کی جو کوشش کی وہ Disentangle کرنے پر منتج ہوئی نہ کہ Decipher کرنے پر چونکہ بارت معنی یا جوہر کو مانتا ہی نہیں تھا لہذا اسے کچھ Decipher کرنا نہیں تھا۔ اسے تو صرف Disentangle کرنا تھا چاہے وہ اس Disentanglement کا پیاز کے پرت اتارنے میں مظاہرہ کرتا یا جراب کو ادھیڑنے میں۔ بارت کہتا ہے کہ اصل لطف کھولنے میں، بے نقاب کرنے میں ہے اس لیے نہیں کہ بے نقاب کرنے پر اندر سے کوئی شے برآمد ہوگی (کیونکہ شے تو موجود ہی نہیں ہے) مثلا جراب کے معاملے میں جب دھاگے کو گرہوں اور پرتوں سے آہستہ آہستہ نجات ملے گی تو آخر میں دھاگے کے سوا باقی کچھ نہیں رہے گا۔ بارت کے نزدیک یہ دھاگا ہی اصل سٹرکچر ہے اور دھاگے کا مختلف صورتیں اختیار کرتے چلے جانا ان Codes کے تابع ہے جس سے یہ دھاگا مرتب ہوا ہے۔(1)
یہاں تقسیم تو بہتر طور پر سمجھ آگئی اور اس کے نتیجے میں ایک ارتقاء بھی سمجھ آیا لیکن وزیر آغا کے اقتباس میں ممکن ہے کہ کسی کو کوئی ابہام محسوس ہو لہذا ہم وضاحت کے طور پر یہ بتا دیں کہ بارت کے یہاں متن کسی ساخت (Structure) سے بنا ہوتا ہے لہذا اسے کھولتے رہنا اور معانی کشید کرتے رہنا ہی مقصد ہے کیونکہ کسی بھی متن میں کوئی بھی حتمی اور آخری معنی نہیں ہوتے بلکہ ایسا کرنا ہی غلط ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں رولاں بارت کا مصنف مر جاتا ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے ناصر عباس نیر کے ذکر کردہ تین نکات ملاحظہ کیجیے کہ بارت متن کو کیسے دیکھتا ہے:
"الف) متن کثیر الجہاتی عرصہ (space) ہے
ب) متن کی جہات مسلسل باہم ٹکراتی اور گلے ملتی ہیں جس سے چنگاریاں وجود میں آتی ہیں اور ایک عالمِ معانی روشن ہوتا ہے۔
ج) معانی کے عالَم کا خالق مصنف نہیں بلکہ ثقافت کے متعدد مراکز ہیں۔” (2)
ان نکات میں سے پہلا نکتہ تو واضح ہو چکا کہ بارت کے نزدیک متن سمندر کی موجوں کی طرح ہے جس میں کئی جہات ہیں اور پیاز کی پرتوں کی طرح ہے جس کی ہر پرت ایک معنی ہے سو اس کی تہہ میں جا کر حتمی معنی تلاش کرنا نہ مقصود ہے اور نہ ہونا چاہیے۔
دوسرا نکتہ اسی پہلے نکتے سے برآمد ہوتا ہے۔
تاہم تیسرا نکتہ ذرا وضاحت طلب اور اہم ہے، اس میں رولاں بارت یہ کہہ رہے ہیں کہ زبان کی ساخت (Structure) میں تمام تر امکانات پوشیدہ ہوتے ہیں بس لکھنے والا ان امکانات کو درک کرتا ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ لکھنے والے کے ذہن میں خیال پہلے سے موجود ہے اور متن بعد میں تخلیق ہوا ہے بلکہ یہ دونوں ساتھ ساتھ ہوتے ہیں کیونکہ ساخت ہی میں سب امکانات ہیں اور وہی مختلف متون و معانی تخلیق کرنے کا سرچشمہ ہے۔
یہاں دو سوال ابھر سکتے کہ اگر ساخت ہی سے یہ معانی نکل رہے ہیں اور لکھنے والا خالق نہیں تو پھر
١۔ متن کی نسبت مصنف کی طرف کیونکر دی جا سکتی؟
٢۔ متون کو اصناف (جیسے شعر، نثر، نثر میں فلسفیانہ، تنقیدی، ادبی وغیرہ) میں تقسیم کرنے کی وجہ کیا ہوگی؟
پہلے سوال کا جواب یہ دیا جا سکتا کہ ساخت میں امکانات تو پہلے سے ہوتے ہی ہیں لیکن چونکہ ان کا ادراک لکھنے والا کرتا ہے تو ہمیں اس ادراک و دریافت کی وجہ سے متن کو اس کی نسبت سے بیان کرنا پڑتا جیسے افلاطون کے مکالمات، نطشے کی کتاب اور اقبال کا شعر وغیرہ۔
دوسرے سوال کا جواب بلکل واضح ہے کہ زبان کی ساخت میں مختلف پیٹرن ہوتے ہیں جس کی وجہ سے الگ الگ اصناف قائم ہوتی ہیں۔
اسی لیے جب ہم کسی متن کو مثلا فلسفیانہ کہتے ہیں تو ہم یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ساخت میں معانی پوشیدہ تھے ان کو کھپانے والے نے جن معانی کی تشکیل دی ہے وہ اپنی ذات میں فلسفیانہ رنگ لیے ہوئے ہیں سو اس طرح متون کی اصناف قائم کرنا اصل مدعا سے متعارض نہیں ہے۔
پس یہاں تک ہم رولاں بارت کی فکر کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ ساتھ ان کے مضمون "مصنف کی موت” کے بھی اہم نکات پر بات کر چکے ہیں لیکن ایک نکتہ اب بھی تشنہ محسوس ہو رہا ہے۔
وہ یہ کہ رولاں بارت جب کہتے ہیں کہ مصنف کو مائنس کر دیا جائے تاکہ متن کسی ایک حتمی معنی(جسے وہ الہٰیاتی معنی کہتے ہیں) کا پابند ہو کر محدود اور بے جان نہ ہو جائے تو ساتھ میں وہ یہ بھی مان رہے ہیں کہ مصنف کی ذات، اس کا پس منظر اور اس کے حالات وغیرہ بھی مائنس سمجھے جائیں۔
کیونکہ متن کی کثیر الجہاتی اور اس میں کئی معانی کا پنہاں ہونا "ساخت” کی وجہ سے ہوتا ہے تو مصنف کی مراد کے ساتھ ساتھ اس کا پس منظر، اس کی تاریخ اور اس کے حالات بھی مردہ متصور ہوں گے۔
یہ وہ نکتہ ہے جو پریشان کن ہے؛ کیونکہ اگر ایک شعر میں مثلا "قفس یا نشیمن” جیسے لفظ ہوں لیکن وہ شعر اقبال کا ہے، میر تقی میر کا یا فیض کا؟ یہ معلوم ہی نہ ہو تو شعر کے مختلف امکانات کھلیں گے کیسے؟!
اسی طرح کانٹ کی کتاب "تنقید عقل محض” پڑھنے والے کو پس منظر ہی کا علم نہ ہو تو وہ اس کی اہمیت اور نئے امکانات کو دریافت کیسے کرے گا۔
گویا ایک طرف رولاں بارت یہ کہہ رہے ہیں کہ ساخت میں امکانات ہوتے ہیں اور کوئی آکر انہیں محض استعمال میں لاتا ہے جبکہ دوسری طرف وہ اس کو مائنس بھی کر رہے ہیں حالانکہ ان امکانات کا ادراک اس چیز سے بھی وابستہ ہے کہ مصنف کی ذات اور اس کا پس منظر و حالات بھی سامنے ہوں۔ (اس کے علاوہ بھی متن کے کئی پہلو ہیں جس کے لیے مصنف کی کسی چیز کی ضرورت نہیں)
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ شلائرماخر بھی متن کو وسیع تناظر میں دیکھتے تھے اور وہ محض مصنف کی شعوری نیت و مراد کو حتمی سمجھنے کے خلاف تھے لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ شلائرماخر مصنف ہی کے شعور و لاشعور کی بات کر رہے تھے جبکہ رولاں بارت ساخت میں موجود جہات و امکانات کی بات کر رہے ہیں اور مصنف کے شعور و لاشعور کی قبر پر "مردہ مصنف” کا کتبہ لگا کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
کیا رولاں بارت کا مدعا مکمل طور پر درست ہے؟رولاں بارت کی کچھ باتیں اہم ہیں جیسے متن کو وسعت دینا یعنی اسے مصنف کی مراد سے نکالنا حتی اس کے لاشعوری معانی سے بھی متن کو وسیع تر قرار دینا۔ دوسرے یہ کہ رولاں بارت کا ساخت کی اہمیت اور اس کے امکانات پر توجہ دینا۔ لیکن رولاں بارت کی یہ بات کیسے مانی جائے کہ مصنف ہمیشہ ہی متن سے دور ہونا چاہیے؟ رولاں بارت کی یہ بات کیونکر مانی جا سکتی کہ مصنف کا پس منظر، حالات اور خیالات مائنس کیے جائیں۔!
التفات: ہم نے رولاں بارت کا مضمون "مصنف کی موت” اردو میں امتیاز احمد، عربی میں عبدالسلام بن عالی اور انگلش میں رچرڈ ہاورڈ کے ترجمے میں پڑھا۔
حوالے:
(1) معنی اور تناظر ص 103 تا 113
(2) متن، سیاق اور تناظر، ص18




