زنجیرِ وحشت (تنہائی، شعور اور آزادی) | اعجازالحق
زنجیرِ وحشت (تنہائی، شعور اور آزادی)
زندگی کی پیچیدہ راہوں میں بعض اذہان وہ ہوتے ہیں جو مسرت اور سکون کی تلاش میں خود کو ایک الگ ہی دنیا میں غرق کر لیتے ہیں۔ ان افراد کے لیے معاشرتی اصول و ضوابط یا سماجی دباؤ کبھی بھی ان کی روحانی اور فکری آزادی کے راستے میں حائل نہیں ہو پاتے۔ ان کے اندر وہ عجیب سی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے تخیل کی دنیا میں سفر کریں اور اپنی ذات کی گہرائیوں میں چھپے ہوئے اسرار کو دریافت کریں۔ ایسے افراد جو اندر کی دنیا کی کھوج میں مصروف رہتے ہیں، انہیں Introvert کہا جاتا ہے، جن کی شخصیت کے مختلف پہلو انہیں معاشرتی سطح پر الگ تھلگ اور پیچیدہ دکھاتے ہیں۔
جب ہم Introvert کی بات کرتے ہیں تو ذہن میں بہت سی بڑی فلسفی اور ادبی شخصیات آتی ہیں جو اس دنیا کے روایتی اصولوں سے بہت دور نظر آتے ہیں۔ ان کے لیے خوشی کا مفہوم وہ نہیں ہوتا جو عام طور پر سماج میں سمجھا جاتا ہے، بلکہ ان کی خوشی کا سرچشمہ کسی گہری خاموشی، تنہائی یا اپنی ذہنی دنیا میں غرق ہونے میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ ان افراد کے لیے دنیا کا سچ اس کی سطحی حقیقتوں میں نہیں بلکہ اس کی گہرائیوں میں چھپا ہوتا ہے۔ وہ اس وقت داخلی اور فکری دنیا میں سفر کرتے ہیں جب دنیا کا شور ان کے لیے بے معنی ہو جاتا ہے۔
فلسفیانہ سطح پر Introvert کا تصور ایک فطری تلاش کا حصہ ہوتا ہے، جو انسان کو زندگی کے بنیادی سوالات جیسے کیا ہے؟ کیوں ہے؟ اور کیسے ہے؟ کی گہرائیوں میں لے جاتا ہے۔ اس بحث میں اگر ہم فریڈرک نطشے کو دیکھیں تو ان کی تحریروں میں یہ بات واضح ہے کہ انسان جب سماجی اصولوں اور روایات سے آزاد ہو کر اپنے اندر جھانکتا ہے تو وہ ایک نئے وجود میں ڈھلتا ہے۔ نطشے نے "آزاد انسان” کا تصور دیا تھا جہاں انسان اپنے اندر کی آواز سن کر اپنی تقدیر خود تخلیق کرتا ہے۔
ادبی دنیا میں بھی Introvert شخصیات کی اہمیت نظر آتی ہے۔ جہاں ادب کی تخلیق میں جو گہرائی اور پیچیدگی محسوس کی جاتی ہے وہ ان کی خاموشی اور تنہائی سے جنم لیتی ہے۔ رومانوی دور کے شعراء جیسے وِیلیم بلیک، جان کیٹس اور پی بی شلے نے اپنی انٹروورٹ شخصیت کی گہرائیوں کو کاغذ پر اتارا اور دنیا کو ایک نئی بصیرت دی۔ جان کیٹس کی شاعری میں دکھ اور تنہائی کا جو عنصر تھا وہ ان کی انٹروورٹ سوچ کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ کیٹس نے زندگی کے تلخ حقائق کو اپنی انفرادیت اور فکری آزادی کے نتیجے میں اپنی شاعری میں بیان کیا۔ اسی طرح غالب کی شاعری میں جو درد تھا، وہ بھی ان کی انٹروورٹ شخصیت کا عکس تھا، جہاں وہ اپنی داخلی دنیا کی پیچیدگیوں کو بیان کرتے تھے۔
ایسے فرد کی زندگی میں سب سے اہم پہلو وہ کشمکش ہوتی ہے جو وہ سماجی اور ذاتی دنیا کے درمیان محسوس کرتا ہے۔ وہ ایک طرف معاشرتی تقاضوں کا شکار ہوتا ہے اور دوسری طرف اپنی انفرادیت اور فکر کو آزادانہ طور پر بکھیرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ اس کشمکش کو امریکی رومانوی شاعر رابرٹ فراسٹ کی شاعری میں جا بجا دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں وہ فطرت سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے ایک مخصوص Inspiration حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہیں پر معاشرتی تقاضوں اور مجبوریوں کو بیان کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔
The woods are lovely, dark and deep,
But I have promises to keep,
And miles to go before I sleep,
And miles to go before I sleep.
ول ڈیورانٹ نے کہا تھا "انسان کا کمال اس کی انفرادیت میں چھپا ہوتا ہے، جو سماج کی جکڑ بندیوں سے آزاد ہو کر خود کو دریافت کرتا ہے۔” یہی وجہ ہے کہ انٹروورٹ افراد ہمیشہ اپنی اندرونی روشنی کو تلاش کرتے ہیں، نہ کہ دنیا کی سطحی چمک دمک کو۔
اس کے علاوہ ایک اور اہم فلسفی، سقراط نے بھی ایسی شخصیات کی اہمیت کو تسلیم کیا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ "جتنا زیادہ تم دوسروں کے ساتھ جڑتے ہو، اتنا ہی تم اپنی ذاتی شناخت اور سوچ سے دور ہوتے ہو۔” اس حقیقت کا ادراک ان تمام فکری اذہان کو ایک الگ دنیا میں غرق کر دیتا ہے جہاں وہ خود سے بات کرتے ہیں، خود کو دریافت کرتے ہیں اور ان کی سوچ کے دائرے وسیع تر ہوتے جاتے ہیں۔
دوسرے انسانوں سے اجتناب کا تصور ایک فطری عمل ہے جو انسان کی فکری آزادی کے راستے میں آتا ہے۔ جب علم انسان کو گہرے سوالات کا سامنا کراتا ہے، تو وہ سادہ اور غیر واضح سوچ رکھنے والے افراد سے اجتناب کرنے لگتا ہے۔ ایسے افراد جن کی سوچ محدود ہوتی ہے اور جو پیچیدہ سوالات پر غور کرنے کے قابل نہیں ہوتے وہ Introvert شخص کے لیے "غیر شعور” کے مثل ہوتے ہیں۔ ان افراد کے ساتھ بات چیت کرنے کے دوران Introvert میں ایک کرب پیدا ہوتا ہے کیونکہ وہ ان کی سطحی باتوں کو سمجھنے کے بجائے اپنے اندر کی گہرائیوں میں غرق رہنا چاہتا ہے۔
ایسے فرد کی زندگی کا سب سے اہم پہلو وہ کشمکش ہوتی ہے جو وہ سماجی دنیا اور اپنی انفرادیت کے درمیان محسوس کرتا ہے۔ وہ ایک طرف معاشرتی تقاضوں کا شکار ہوتا ہے، اور دوسری طرف اپنی انفرادیت کو آزادانہ طور پر بکھیرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ یہی کشمکش اسے داخلی طور پر پیچیدہ بناتی ہے، اور وہ "زنجیر وحشت” میں محصور رہ کر اپنی حقیقت کو دریافت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ہم فرانسیسی فلسفی اور مصنف جین پال سارتر کے ناول "No Exit” کا حوالہ دیں تو اس میں اس نے ایک اہم فلسفیانہ قول پیش کیا ہے: "Hell is other people” (جہنم دوسرے لوگ ہیں)۔
سارتر کا یہ قول اس کے فلسفے کی نمائندگی کرتا ہے جو "Existentialism” یعنی وجودی فلسفہ پر مبنی ہے۔ اس ناول میں تین مرکزی کردار ایک کمرے میں بند ہوتے ہیں، جہاں وہ ایک دوسرے کی موجودگی سے اذیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہاں سارتر کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ دوسرے لوگوں کی توقعات، رویے، اور ججمنٹ انسان کی آزادی اور خودی کو کس طرح قید کر لیتے ہیں۔ اس تناظر میں، "دوسرے لوگ” انسان کی انفرادیت کے لیے جکڑ بندی بن جاتے ہیں۔ Introvert کے لیے یہ حقیقت بالکل سچائی میں تبدیل ہو جاتی ہے، وہ جب دنیا کی سطحی حقیقتوں میں الجھتا ہے اور سماجی تقاضوں سے دوچار ہوتا ہے، تو اس کی انفرادیت کو دوسروں کی توقعات اور ججمنٹ کی زنجیریں جکڑ لیتی ہیں۔ انٹروورٹ فرد کی داخلی زندگی، جو عموماً گہرے سوالات اور فکری آزادی کی تلاش میں مصروف ہوتی ہے، دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلقات کی جکڑ بندی میں آ کر بے چین ہو جاتی ہے۔
اس کشمکش کے دوران انسان ان سوالات میں الجھ جاتا ہے، جو اس کے اندرونی اضطراب اور "زنجیر وحشت” کی نمائندگی کرتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ جب کوئی فرد محض سطحی باتوں میں مگن ہوتا ہے اور اس کے پاس زندگی کے بنیادی سوالات کا کوئی جواب نہیں ہوتا، تو وہ اپنی دنیا میں سکون کے ساتھ کیسے رہ سکتا ہے؟ جبکہ دوسری طرف وہ شخص جو گہرے فکری سوالات کا سامنا کرتا ہے، وہ کیوں ایک داخلی درد میں غرق رہتا ہے؟ یہ سوالات Introvert کو اپنی فکری آزادی کی طرف لے جاتے ہیں، اور انہیں اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ دنیا کی حقیقتوں کو سمجھنا ان کی زندگی کا اصل مقصد ہے۔
انسانی سماج کی سطحی حقیقتوں سے دور رہنا ایک فطری عمل ہے جب انسان ایک مخصوص شعور کی سطح پر پہنچ جاتا ہے۔ ہم اپنی زندگی میں جتنی زیادہ حقیقتوں سے آگاہ ہوتے ہیں، اتنا ہی ہم اس دنیا سے دور ہونے لگتے ہیں۔ یہ نہیں کہ میں انسانوں سے نفرت کرتا ہوں، بلکہ میری موجودہ حقیقت اور فکر اتنی مختلف ہے کہ میں ان سے دور رہ کر زیادہ خوش رہتا ہوں۔




