White Black And Gray Area’s ; | علی زیوف
White Black And Gray Area’s
زندگی آپ اپنا تخاطب زرا بہتر کریں!
یہ دَہشت زَدہ وَحشت کی ماری ہوئی میتیں
جن کی تقدیس کو نہیں زیبا صبر
نہ ہی شَد و مَد کی یہ اُلجھی ڈگر
جس کے ہر گھاٹ پر
گھات لگائے ہوئے ہیں موت کے اَن گنت شجر
جہاں دن رات کے چاروں پہر میں
بکھری ہوئی ہیں بپھری رسیاں
جن کے سانچوں کی گردنیں
ہوا کی کوکھ سے سانسیں جھول کر
قبل اَز وقت جواں ہو گئیں
موت کا طَبل بجنے سے پیشتر
گورکن جن کے اپنے کندھوں پر
مشعالوں کے کدال لیے
برزخ و بہشت کے دروازوں سے روانہ ہوئے
جن کی اِشکال پر
منکروں کو نہ جلانا نہ دفنانا رسم الخط میں واضح تحریر ہے
یہی تقدیر ہے !
ازل کے پیہم پیمانے سے ٹھکرائے ہوئے محبان کی
محبت سے ہارے کند ذہنوں کے دہکان کی
یہی قسمت ہے !
زندگی کے تلخ رویے کا بار نہ اُٹھانے والوں کی
حبس کی شدت سے خودکشی کے نرغے میں آنے والوں کی
جن کی کلف زدہ جیب میں
زندگی جینے کا اَدھورا افسانہ چُھپا رہ گیا
جن کو مرنے کی موجب وجہ ردِ بلا سے مل نہ سکی
زندگی آپ اپنا تخاطب زرا بہتر کریں !
ہم اِس ناہنجار شہر میں
آپ کے کُبڑے دہر میں
ہرگز دوبارہ نہیں آئیں گے
اب کی بار پچھتا لیا
جب کی بار ہاتھ ملتے ہی رہ جائیں گے
گر چہ ہمارے چہرے کے کتبوں پر اِک کندہ تحریر تو شاملِ حال رہے
جینا جس کو درپیش ہو مشکل، اُس کا مرنا کیونکر محال رہے




