نظم

لُوپ | یاسر خان انعام

لُوپ

 

وقت کیا ہے کسی شے کے ہونے سے لے کر نہ ہونے تلک کا وہ دورانیہ ہے 

جس میں وہ اپنے ہونے نہ ہونے کا احساس بھی 

گو کسی شکل میں ہو کراتی رہے 

عمر کیا ہے فقط چند ذرات کا 

ایک مدت تلک ایک ہی شکل میں 

ایک دوجے سے لپٹے ہوئے وقت کو کاٹنا 

عمر انسان کی سو برس کچھ زیادہ ہوئی 

عمر ستر ارب سال بھی 

اک ستارے کا کچھ بھی نہیں 

جسم کیا ہے 

وہی چند ذرات کی ایک شکل 

جیسے میں 

جیسے تو 

وقت اک لوپ ہے 

جس میں ذرات گردش میں ہیں 

جیسے میں اور تو ایک انسانی شکل 

عین ممکن ہے کچھ سو ارب سال بعد 

کچھ مرے جسم کے کچھ ترے جسم کے چند ذرات مل کر کوئی شکل لیں 

اب میں خوش ہوں کہ کچھ سو ارب سال بعد 

اپنے ملنے کا کوئی تو امکان ہے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x