فلو زدہ آنکھوں کے خواب / عالیہ مرزا
فلو زدہ آنکھوں کے خواب
آج کل کھڑکی کے اس پار دھند میں
کچھ دکھائی نہیں دیتا
آخر دھند کے اس پار
ایسا کیا ہے
جسے دیکھنے کی خواہش کبھی پوری
نہیں ہوتی
نیند گرجے سے آتی گھنٹیوں کی صدا سے
چونک جاتی ہے
اور ان کی محبت میں ننگے پاؤں
کسی پگڈنڈی پر چلتے چلتے دور
نکل آتی ہے
اسے دھند کا ہاتھ پکڑ کر چلنا
اچھا لگتا ہے
لیکن سردی کی شدت سے
قلم ہاتھوں میں کانپتا ہے
کچھ لکھا نہیں جاتا
کبھی کبھی لکھنے سے زیادہ کٹھن کام
کوئی اور نہیں ہوتا
پرانے فلسفے ،نئے نظریے
دیواروں پر لگے قبل مسیح کلینڈر ،سمارٹ فون
کی روشنیاں،
سب گڈ مڈ ہو جاتے ہیں
ہاتھ کانپتے رہتے ہیں
جاتے سال کے آخری دنوں کو روکنا
بس میں نہیں ہوتا
اور سال کا آخری گھنٹہ یاد دلاتا ہے
کہ گھنٹیوں کی آواز کیوں ننگے پاؤں
چلنے پر مجبور کرتی ہے
یہ دل اچانک سہم گیا ہے
کیا اسے کوئی مرض لاحق ہو چکا ہے ؟
سانس لیتے لیتے اک انجان سی
گرہ لگنے لگی ہے
ماں باپ بہت یاد آنے لگے ہیں
اور فلو زدہ آنکھوں سے خواب پانی کی طرح کیوں بہنے لگے ہیں ۔۔۔۔




