غزل

غزل /سفر نگل گئے ہم کو وگرنہ ہم نے بھی/عقیل عباس

غزل 

عقیل عباس 

امورِ سلطنتِ جسم کا سیانا تھا

سو میرا رات کی رانی سے دوستانہ تھا

سفر نگل گئے ہم کو وگرنہ ہم نے بھی

کہیں پہنچ کے کسی کو گلے لگانا تھا

کلاس روم میں اتنا سمے نہیں ہوتا 

یہ سانحہ تمہیں گھر سے بنا کے لانا تھا

ابھی ابھی جو ہمارے دِلوں سے گزرا ہے 

تمہیں خبر نہیں شاید مگر زمانہ تھا 

پھر ایک دن مجھے معبد کی سیڑھیوں پہ ملا

وہ اولین فرشتہ جو مارا جانا تھا

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x