دوسری جانب / حمزہ-ز
دوسری جانب
ہمیں نہیں دیکھنا چاہیے
اپنے خیال کی دوسری جانب
ان خیالوں سے باہر کچھ بھی ہمارے لیے نہیں بنا
اے آئینے سے جنم لینے والی عورت
ہمیں ایک دوجے کی پرستش کرنی چاہیے
تم خدا سے کیئے ہوئے وعدے توڑ کر خود کو میرے سامنے برہنا کرلو
اور میں تم پر ایمان لے آوں
ہم ہی اک دوسرے کی منزل ہیں
نظم سب کچھ نہیں ہوتی
میں نظم سے بہت آگے نکل آیا ہوں
اور اب ان لفظوں کو چبا جانا ہوں
جو میرے اندر چیختے ہیں
شور کو پسند کرنے والے لوگ مفلسی کا شکار ہو جاتے ہیں
سمتیں بدلتی رہتی ہیں
البتہ میں تمھیں محبت کے پہلے عشرے کی طرح چاہتا رہوں گا
تم آج بھی مجھے
اپنے پرفیوم سے زیادہ تیز خوشبودار لگتی ہو
لیکن میں تمہیں کسی دوسرے انسان سے کمپیئر نہیں کرتا
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں
اپنے خیال کی دوسری جانب
ہمیں نہیں دیکھنا چاہیے
ہم اس خیال سے باہر ایک پتھر رہ جائیں گے
پتھروں کی عبادت نہیں کی جاتی




