غزل
غزل / کھیت میں جب کپاس ہوتی ہے / منیر جعفری
غزل
کھیت میں جب کپاس ہوتی ہے
میری بیٹی اداس ہوتی ہے
موت کے قیدیوں سے پوچھ کبھی
زندگی کتنی خاص ہوتی ہے
جب اندھیرے طویل ہو جائیں
روشنی آس پاس ہوتی ہے
میری چپ کو بھی احتجاج سمجھ
یہ بھی دل کی بھڑاس ہوتی ہے
رات کتنی ہی خوفناک سہی
رات دن کا لباس ہوتی ہے
جن سے کوئی نہیں گزرتا کبھی
ایسے رستوں پہ گھاس ہوتی ہے
پیڑ یونہی نہیں اٹھاتا پھل
اسکو شاخوں پہ آس ہوتی ہے
یہ لگن کی کرامتیں ہیں منیر
شہد میں کب مٹھاس ہوتی ہے




