نظم
ہم ٹھگ لیے جاتے ہیں / کے بی فراق
ہم ٹھگ لیے جاتے ہیں
سادھارن آدمی
زندگی کرنے کے سفر میں
مکرچال کا ہنر
سیکھنے سے رہ جاتا ہے
اور زندگی آگے نکل جاتی ہے
اس بیچ
بہتوں کے تیور
اپنے لیے
ایک نیا بوطیقا مرتب کرنے کے سبب
سادھارن آدمی کو اس میں
جگہ دینے کے بجائے
اور اس کی درون میں
انشقاقی پرتو کے بھیتر
در آتے سوالوں سے
اغماض برت کر
ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے
آگے بڑھنے کی صورتیں
تراش لیتے ہیں
اور یہ شہر ، اپنے نئے لغت کے ساتھ
نئے شبدوں کے برتاؤ میں
معنی کا اُلٹ پھیر کرنے کے لیے
کچھ ایسا بھی کر جاتا ہے
جو قبل ازیں محبوب صورت نہیں رکھتے تھے
بلکہ ٹھگ پن کو ،
ایک گُر سمجھ کر اپنا لیا جانے لگا
اس لیے واکیہ میں
یہ بات شامل کی گئی
اور معمول کا حصہ بنا،
تو کیا دیکھتے ہیں
کہ لوگ
ٹھگ لئے گئے
اور ٹھگ لئے جانے والے ویکتی پر
تمسخر کے تازیانے برسائے گئے
اور برساتے رہے




