نظم
سمندر / غنی پہوال
سمندر
تم جب ساحل کی گیلی ریت پر
ننگے پیر چلتی ہو
تو موجیں پہاڑی رستے کی طرح
بل کھانے لگتی ہیں
اور لہریں شرارت بھری اٹکھیلیوں سے
ہواؤں کے کانوں میں سرگوشیاں کرکے
باہم ہنسنے لگتی ہیں
پھر ان کے ساتھ ساتھ سمندر بھی
دھیرے دھیرے مسکرانے لگتا ہے
اور ساحل پر تمہاری راہوں میں
آنکھیں بچھاۓ صدف
صدیوں سے ایک لمس کے منتظر ہیں
کیونکہ تم ہی انہیں چھو کر
ہیرا بنا سکتی ہو
اور جب تمہاری آنکھیں موجوں کی
بے قراریوں کو محسوس کرنے لگیں
تو سمجھ لینا سمندر
تمہاری آنکھوں میں ڈوب کر
اَمر ہونا چاہتا ہے




