نظم

خاموشی ایک عورت ہے/ نجمہ منصور

خاموشی ایک عورت ہے

خاموشی ایک عورت ہے!

وہ بات نہیں کرتی، مگر اس کی آنکھوں میں صدیوں کی گفتگو ٹھہری ہوئی ہے

اس کے بالوں میں وقت کی دھول جمی ہے

اور اس کے دوپٹے کے کنارے پر روشنی کے پرانے داغ ہیں

وہ صبح کے اجالے سے پہلے جاگتی ہے

خالی پیالے میں سانس بھرتی ہے

اور دنیا کی تھکی ہوئی صداؤں کو چولہے کے نیچے راکھ کی طرح چھپا دیتی ہے

خاموشی ایک عورت ہے

جو بولنا جانتی ہے، مگر بولتی نہیں

اس نے اپنی زبان کو صبر کے پیالے میں ڈبو رکھا ہے

کہ کوئی حرف بھٹک کر چیخ نہ بن جائے

اس کے قدم زمین پر نہیں پڑتے

وہ سایوں کے درمیان سے گزرتی ہے

اور دیواروں کے اندر اگنے والے پودوں سے راز کہتی ہے

جب رات اپنی کالی چادر پھیلاتی ہے

وہ چاند کو دودھ میں گھول کر

سوئے ہوئے بچوں کی پیشانی پر ٹھنڈی دعا رکھتی ہے

خاموشی ایک عورت ہے

جو وقت کی بیوہ ہے

مگر آنکھوں میں اب بھی امید کے ادھ جلے چراغ رکھے ہوئے ہے

لوگ اسے کمزور سمجھتے ہیں

پر اس کے اندر ایک ایسا سمندر ہے

جس نے چیخوں کے تمام زخم نمک میں بدل دیے ہیں

جب وہ مسکراتی ہے

آسمان کے کنارے ایک نئی صبح جنم لیتی ہے

اور جب وہ روتی ہے

خدا کے کانوں میں ایک نظم بہہ جاتی ہے

جس کا مفہوم کوئی بھی سمجھ نہیں پاتا!!

 

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x