غزل

غزل / یہ کھیت صدیوں پرانے یہ حال اب بھی ہے / نسیم عباسی

غزل

 

یہ کھیت صدیوں پرانے یہ حال اب بھی ہے 

ہمارے پاس پرانی کدال اب بھی ہے

 

وہی ہیں الجھنیں اپنی وہی مسائل ہیں 

جو کال پچھلے برس تھا وہ کال اب بھی ہے

 

مرے مکان میں جمتی ہے برف چولہوں پر 

مرے پڑوس میں لکڑی کی ٹال اب بھی ہے

 

ابھی بہار کی آمد سے ناامید نہ ہو 

خزاں رسیدہ درختوں پہ چھال اب بھی ہے

 

انگوٹھا چوستا تھا ماں کی گود میں جو کبھی 

مری سرشت میں وہ نونہال اب بھی ہے 

 

اکیلے پن میں بھی محو کلام رہتا ہوں 

کہ مجھ میں کوئی مرا ہم خیال اب بھی ہے 

 

نصابِ حسن کے سارے سوال نامے میں 

جواب جس کا نہیں وہ سوال اب بھی ہے

 

یہ عمر عاشقی کی عمر تو نہیں لیکن

نسیم باسی کڑھی میں ابال اب بھی ہے 

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x