غزل

غزل / غم نہیں غم آفریں اندیشہ ہے / خورشید ربانی

غزل

 

غم نہیں غم آفریں اندیشہ ہے

آئینے میں جاگزیں اندیشہ ہے

 

میں نے دیکھا رات جنگل میں اسے

کس قدر روشن جبیں اندیشہ ہے 

 

موجہِ گرداب تک تھے ایک ساتھ

اب کہیں ہوں میں، کہیں اندیشہ ہے

 

گاہے گاہے دیکھتے رہیے اسے

  دل میں جو خلوت نشیں اندیشہ ہے 

 

اس کی آنکھیں دیکھیے اور سوچیے

غمزہ بھی کیا سُرمہ گیں اندیشہ ہے

 

دل میں اڑتی خاک سے روشن ہوا

غم کوئی وحشی نہیں، اندیشہ ہے

 

ایک اک دھڑکن سے لگتا ہے مجھے

سر بہ سر قلبِ حزیں اندیشہ ہے

 

زندگی بھر کے سفر پر یہ کھلا

زندگی اک خواب گیں اندیشہ ہے

 

حادثہ ہے شاخ پہ مہکا ہوا

 باغ سارا بالیقیں اندیشہ ہے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x