میں اپنا زخم ہرا رکھوں گا / ڈاکٹر جواز جعفری

میں اپنا زخم ہرا رکھوں گا
میری خواب گاہ کے فرش پر
سرخ آبشار بہتا ہے
میں رات بھر اپنی خواب گاہ کی باقی ماندہ دیوار پر
ہتھیائی گئی سر زمین کا چہرہ بناتا ہوں
مجھے آگ اور پیاس کے سارے ذائقے معلوم ہیں
اس لیے میں اپنے پانیوں سے دستبردار ہونے والا نہیں
میں اپنے جلے ہوئے درختوں کی لکڑی سے
مصنوعی اعضاء بناؤں گا
اور انہیں جنگ میں معذور ہونے والے بچوں کو ہدیہ کروں گا
یہی بے دست و پا بچے ایک دن
دنیا کی دستگیری کریں گے
رات کے پچھلے پہر
میں بے نام قاتلوں سے اپنے زیر زمین سوئے ہوئے عزیزوں کا خوں بہا مانگنے جاتا ہوں
ہر بار میرا دامن
مرنے والوں کی چیخوں سے بھر جاتا ہے
میرے سینے میں ایک شگاف ہے
جس کا علاج ممکن نہی
دنیا کے نقشے سے مٹا دی گئی زمین کی بازیابی تک
میں اپنا زخم ہرا رکھوں گا
میں دشمن کے سارے وار پیٹھ کی بجائے
اپنے دل پر سہتا ہوں
کل رات جب دشمن اپنے نیزوں سے
میرا دل چھید رہے تھے
میری آواز
اذیت اور اجنبیت کی آخری بلندیوں کو چھو رہی تھی




