غزل
غزل / اگرچہ نوکِ سناں پر بھی سر نہیں آئے / نسیم عباسی
غزل
اگرچہ نوکِ سناں پر بھی سر نہیں آئے
مگر جو گھر سے گئے تھے وہ گھر نہیں آئے
میں ایک ضربِ گلِ تر سے ٹوٹ پھوٹ گیا
مرے خلوص کو پتھر نظر نہیں آئے
کسی سے کرتے گلہ کیا نئی اڑانوں میں
ہمارے کام تو اپنے بھی پر نہیں آئے
حدودِ ذات میں کوئی ہمیں کہاں ڈھونڈے
گزر رہے ہیں اُدھر سے جدھر نہیں آئے
بہت سے زخم تو سب کو دکھائی دیتے تھے
بہت سے زخم کسی کو نظر نہیں آئے
سفر کڑا تھا مگر منزلِ مراد کے پاس
میں آ گیا ہوں مرے ہمسفر نہیں آئے
نسیم باغ میں سب موسمی پرندے تھے
گئے ہیں جب سے پلٹ کر اِدھر نہیں آئے




