غزل

غزل / پھر آسمان پہ بجنے لگا ہے نقارہ / عابد رضا

غزل

پس ِ قافیہ آرائی

 

پھر آسمان پہ بجنے لگا ہے نقارہ

شفق میں سرخ نظر آ رہا ہے سیارہ

 

ابھی تو دشت میں بکھری ہوئی ہے خون کی بو

ابھی ابھی تو فضا میں پھٹا ہے طیارہ

 

خود اپنے آپ سے ہوں آج بر سرِ پیکار

وہ رن پڑا ہے کہ سینہ مرا ہے صد پارہ

 

خلا نَوَرد کے سیارچے میں اس کا رفیق

خراب و خستہ بہت یاد کا ہے پشتارہ

 

ہر ایک عاشقِ صادق کو قیس کا ہمزاد

کلون کر کے بنایا گیا ہے ناکارہ

 

کتابیں سونپ چکے ہم مشین زادوں کو 

اب ان کو دیکھ کے “دل ہو رہا ہے سیپارہ”

 

گلی کے موڑ پہ بیٹھا ہے اک سگِ خاموش

کچھ اس پہ رحم کرو دل زدہ ہے بے چارہ

 

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x