غزل
غزل / مجھے نہ چھوڑ کے جاؤ ابھی خدا کے لیے / لاریؔن جعفری
غزل
مجھے نہ چھوڑ کے جاؤ ابھی خدا کے لیے
تمھاری چپ ہی بہت ہے مجھے سزا کے لیے
کسی خیال میں گم ایک سمت تکتے ہوئے
بڑھا رہی ہوں کئی مشکلیں خلا کے لیے
یہ سب وہ لوگ ہیں جو مجھ پہ ہنس رہے ہیں ابھی
میں جن سے لڑتی رہی ایک بے وفا کے لیے
میں ارد گرد کی دیوار توڑ کر اپنے
بنا رہی ہوں نئے راستے ہوا کے لیے
کسی سے خواہشِ دل اب بیاں نہیں کرنی
نہ کوئی ہاتھ اٹھانا ہے اب دعا کے لیے
کئی طبیب ہیں لاریؔن آس پاس کہ جب
رہی نہیں کوئی حسرت مجھے دوا کے لیے




