خبریں

امریکہ، مصر، قطر اور ترکی نے غزہ امن معاہدے پر دستخط کر دیے/ اردو ورثہ

امریکہ، مصر، قطر اور ترکی نے پیر کو مصر کے مشہور سیاحتی مقام پر ایک خصوصی تقریب میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کر دیے۔

شرم الشیخ میں ٹی وی پر براہ راست دکھائی جانے والی اس تقریب کے میزبان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی تھے۔

امریکی صدر نے مصر جانے سے قبل اسرائیل کا مختصر دورہ کیا اور پارلیمنٹ سے خطاب میں وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کی تعریف کی۔

ٹرمپ نے معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے اسے ’مشرق وسطیٰ کے لیے ایک عظیم دن‘ قرار دیتے ہوئے کہا ’یہ دستاویز قواعد و ضوابط اور کئی دیگر امور کی وضاحت کرے گی۔‘ انہوں نے دو بار کہا ’یہ (دستاویز) برقرار رہے گی۔‘

تقریب میں دنیا کے 20 سے زائد رہنما شریک ہوئے جن میں اردن کے بادشاہ عبداللہ، ترک صدر رجب طیب اردوغان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، فرانس کے صدر، برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف شامل تھے۔

اجلاس کا مقصد غزہ میں امن معاہدے کی حمایت کرنا، اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان لڑائی کا خاتمہ اور تباہ حال فلسطینی علاقے کی بحالی کے لیے طویل المدتی حکمتِ عملی تیار کرنا تھا۔

تقریب سے قبل شریک میزبان ٹرمپ نے مہمان رہنماؤں کا فرداً فرداً استقبال کیا۔ شہباز شریف نے بھی ٹرمپ سے مصافحہ اور مختصر گفتگو کی۔

اجلاس کے آغاز سے قبل السیسی نے ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ’واحد شخصیت‘ قرار دیا جو مشرقِ وسطیٰ میں امن لا سکتے ہیں۔

اسرائیل اور حماس پر امریکہ، عرب ممالک اور ترکی نے دباؤ ڈالا تھا کہ وہ قطر میں ثالثوں کے ذریعے طے پانے والے امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کریں، جو جمعے سے نافذ ہو چکا ہے۔

تاہم، اگلے مراحل کے بارے میں اب بھی بڑے سوالات باقی ہیں، جن کے باعث دوبارہ لڑائی چھڑنے کا خدشہ ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان کوئی براہِ راست رابطہ نہیں اور دونوں نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت پیر کو حماس نے دو سال کی قید کے بعد اپنے قبضے میں موجود آخری 20 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کر دیا۔

بدلے میں اسرائیل نے اپنی جیلوں میں بند 1,968 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا۔

امن معاہدے کے تحت حماس ان 27 مغویوں کی لاشیں بھی واپس کرے گی جو قید کے دوران مارے گئے۔ اس کے علاوہ 2014 میں غزہ کی پچھلی لڑائی کے دوران مارے جانے والے ایک اسرائیلی فوجی کی باقیات بھی واپس کی جائیں گی۔

امریکی صدر نے بارہا اطمینان ظاہر کیا ہے کہ فائر بندی قائم رہے گی۔ انہوں نے شرم الشیخ میں مصری صدر السیسی کے ساتھ مشترکہ گفتگو میں کہا کہ معاہدے کے اگلے مرحلے پر بات چیت جاری ہے۔

 

انہوں نے کہا ’ہمارے خیال میں دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ یہ تمام مراحل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔‘

امن کا نیا باب
مصری صدر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ اجلاس کا مقصد غزہ میں جنگ کا خاتمہ اور ’امن و علاقائی استحکام کے نئے دور‘ کا آغاز کرنا تھا، جو ٹرمپ کے وژن سے مطابقت رکھتا ہے۔

مصری فضائیہ کے طیاروں نے ٹرمپ کے طیارے ایئر فورس ون کا خیرمقدم کیا اور اسے فضائی سلامی دی۔ ہوائی اڈے پر صدر السیسی نے خود ان کا استقبال کیا۔

اجلاس سے قبل مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعتی نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ اسرائیل اور حماس فائر بندی کے پہلے مرحلے پر مکمل عمل درآمد کریں تاکہ بین الاقوامی حمایت کے ساتھ دوسرے مرحلے پر مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔


Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x