اُردو ادبافسانہ

زرد خوشیاں / روبینہ یوسف

فاطمہ کی نظریں ڈرپ پر جمی تھیں جہاں سے قطرہ قطرہ سرخ لہو سہما سہما سا اس کی رگوں میں جا رہا تھا جیسے وہ کسی بھی پل غصے میں آ جائے گی اور ان قطروںں کو مٹا دے گی۔
یہ واحد مقام تھا جہاں وہ بے بسی کی تصویر بن کر رہ جاتی تھی ورنہ گھر کے سارے سرخ پھولوں والے گملوں کو اس نے روند ڈالا تھا ۔

گھر میں ٹماٹر نہیں آتے تھے اور اسی پر بس نہیں سرخ رنگ کی کوئی بھی چیز فاطمہ ولا سے کوسوں دور تھی۔

بقول اس کے کہ ہر وہ چیز جو میرے وجود کے پیلے پن اور رگوں کی زرد لیموں جیسے رنگ کا مذاق اڑاتی ہے مجھے اس سے نفرت ہے۔

سورج کی تیز کرنیں جب تک جسم و جاں کو جھلساتی رہتیں اسے بہت بھاتیں مگر جہاں وہ سنہری رنگت میں ڈھلنے کے بعد افق پر گلال بن کر بکھر جاتیں تو وہ اپنے کمرے میں آ کر پناہ لیتی۔

اس کی زندگی سوالیہ نشان بنا کر کائنات میں دھنک لہراتی پھرتی ہے۔

اسے تو قو س و قزح سے بھی شکایتیں تھیں۔

وہ روئے جاتی۔
شکر ہے کہ آنسوؤں کا رنگ گلابی یا سرخی مائل نہیں ہوتا ورنہ وہ ان سے خود کو کیسے بچا پاتی؟؟

دھان پان تو وہ شروع سے تھی۔ گوری رنگت میں زیتونی عکس لہراتا ۔کانوں کی لویں شفتالوی شگوفے نظر آتیں۔ گالوں پر گلابیوں کی بجائے سنہری اجالے دمکتے۔

اسے ہمیشہ سنہری اور گیروے شیڈز پہننے کے لیے پسند آتے۔

ویسے اس کا پیٹ شروع سے پھولا ہوا تھا۔ آنکھوں کی سفیدیوں میں پیلا پن نمایاں تھا۔
سر اور چہرے کی ہڈیاں عام بچوں کے مقابلے میں زیادہ چوڑی تھیں۔

بچپن میں ہی بیماری کی تشخیص کے بعد عقلمند ماں باپ نے اسے ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار کرنا شروع کر دیا کہ وہ عام بچوں کی طرح نارمل زندگی گزارنے کی اہل نہیں ہے۔
اس کے خون میں آئرن کی مقدار غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے دل گردوں اور جگر کو نقصان پہنچ سکتا ہے
اور یہ کہ اس کی رگوں میں بہتا، باغی
خون بھی زردیوں میں کھنڈا ہوا ہے۔

ماں باپ کے لیے تو بے انتہا صدمے کی بات تھی مگر فاطمہ کے لیے بھی یہ دکھ کم جان لیوا نہیں تھا کہ وہ ایک نارمل لڑکی نہیں ہے۔
تھیلیسمیا میجر کی شکار بننے کے بعد وہ سوچ رہی تھی کہ کس کا گریبان پکڑے؟؟
ماں باپ کا کہ انہوں نے شادی سے پہلے اپنا سکریننگ ٹیسٹ نہیں کروایا مگر کمبخت محبت کسی ٹیسٹ کو نہیں مانتی۔

اس کے ماں باپ کی پسند کی شادی تھی۔ اس کے باپ نے کتنی ہی لڑکیوں کو ٹھکرایا تھا۔ دادی منتیں کر کر کے ہار گئیں۔ دادا نے عاق کرنے کی دھمکی دے دی مگر زمین جائیداد سے دستبردار ہونے کو تیار اس کا باپ اس کی ماں سے کنارہ کش ہونے کو تیار نہ تھا۔
دوسری طرف اس کی ماں بھی منہ زور جذبوں کے سامنے تن کر کھڑی تھی۔
عزت آبرو،وضعداری، رکھ رکھاؤ اور خاندانی جاہ و حشم پر ایک محبت بھاری پڑ گئی تھی اور اتنا وزن رکھتی تھی کہ تمام اقدار اس کے بوجھ تلے سسک رہی تھیں۔
زندگی میں کچھ پہلو ایسے ہیں جن پر ہمارا زور نہیں چلتا۔
جن پر بات کرنے اور بدلنے کا اختیار صرف اور صرف
کائنات کی ایک ہی سپر پاور کے پاس ہے۔ نصیب کا لکھا ایریا 51 ہیں۔ جہاں انسانوں کا کچھ زور نہیں چلتا۔

محبت اندھی ہوتی ہے اس میں کوئی میڈیکل نقص یوں نہیں ہو سکتا کہ یہ جذبوں کی آنچ سے گزر کر تقطیر ہو جاتی ہے تو ہر کثافت سے پاک قرار دی جاتی ہے ۔

لو جی!! بات ختم ہوئی۔ تھیلیسیا کی الفا اور بِیٹا زنجیروں کی طرح چاہت کا جذبہ بذات خود بہت قوی ترین زنجیر ہے۔

چلو یہ بھی ٹھیک ہے تو اب وہ اپنا ماتم کیسے کرے اور کیا اسے کرنا چاہیے ؟؟؟؟

ایک دن اس نے اپنے ڈاکٹر یاور کانجی سے اس بیماری کے بارے میں پوچھا۔
شفیق سی مسکراہٹ والے ڈاکٹر یاور کانجی نے اسے تفصیلاً بتایا کہ اس بیماری میں ہڈیوں کے ٹشوز نا کافی خون کے سرخ خلیات پیدا کرتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں خون کی کمی ہوتی ہے اور زندگی بھر وقفوں وقفوں سے مریض کو خون چڑھایا جاتا ہے۔
فاطمہ کا مضطرب چہرہ انہیں بہت کچھ سمجھا گیا۔
اپنے اندر کا ضرورت سے زیادہ ہیموگلوبن خزاں رسیدہ لوگوں میں بانٹ دو ۔
جہاں جہاں زرد اجالے نظر آئیں انہیں سرخیاں دے دو۔
زندگی ایک ہی بار ملتی ہے اسے جینا سکھو۔
اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں اسے کلاس فیلوز کی آنکھوں میں اپنے لیے ہمدردی نظر آتی۔

چند ایک کی نظروں میں اس کے لیے حقارت اور بے وقعتی تھی۔

اس کی پھپھو جن پر وہ جان دے دیتی تھی اور وہ بھی ا سے بہت چاہتی تھیں۔
اس کی پیدائش پر اس کے کانوں میں سونے کی ننھی ننھی بالیاں ڈال کر اسے اپنی بہو بنانے کا اعلان کر گئ تھی ۔
اس کی بیماری کے انکشاف کے بعد ان کے فون نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے ۔مدتوں ہو گئے تھے ان سے رابطہ کیے ہوئے۔
ایک دن جب وہ کالج سے لوٹی تو ٹی وی لاؤج میں صوفے کے ساتھ والی ٹیبل پر ان کے بیٹے اور اس کے سو کالڈ منگیتر کی شادی کا کارڈ دھرا تھا۔
دل زخمی تو ہوا مگر وہ کارڈ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے وہیں پھینک کر آگئی۔

ماں جو کہ اسے ہی دیکھ رہی تھیں، اپنی نظریں چرا گئیں۔
یہیں سے اس کی اندرونی توڑ پھوڑ کا اغاز ہوا۔

ہر سرخ شے کو دیکھ کر اسے ایسا لگتا کہ اس نے اس کے وجود کی سرخی چرا لی ہے۔

وہ جنونی ہوتی گئی۔ گھر کے پورچ میں کھڑی سرخ سپورٹس کار کو اس نے مٹی اور کیچڑ سے لیپ دیا۔
اگلے دن کار وہاں موجود نہ تھی۔

اب اس کی نیندیں پریشان خوابوں سے بھر گئیں۔
کئی بار اس نے خود کو گہرے سرخ سیال میں ڈوبتے اور مدد کے لیے چلاتے دیکھا ۔
آنکھ کھلنے پروہ چھپاک سے واش روم میں جا کر شاور کھول کر اس کے نیچے کھڑی ہو گئی جیسے خود کو پاک صاف کر لیا ہو ۔

ماں باپ ازحد پریشان تھے۔

اپنی خوشیوں کے لیے تن من کی بازی لگانے والے بیٹی کو راحتوں کے جگنو دینے سے قاصر تھے ۔
تنہائی میں وہ ڈاکٹر یاور کانجی کی باتوں پر دھیان کرتی ۔
کبھی سکون محسوس ہوتا اور کبھی مزید بے آرام ہو جاتی۔

ایک بار وہ معمول کے وزٹ پر ہاسپٹل گئی جہاں اسے خون چڑھنا تھا۔
بڑا سے کمرہ دیدہ زیب اور آرام دہ کرسیوں سے سجا ہوا تھا۔

ان پر ہر عمر کے بچے، بوڑھے جن میں خواتین بھی شامل تھیں خون چڑھنے کے عمل سے گزر رہے تھے.

ایک سال کا بچہ مائنر تھیلیسمیا کا شکار، اپنے ساتھ ہونے والی بد نصیبی سے بے خبر ہمک رہا تھا۔
اس کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں۔
سامنے بلال بیٹھا تھا۔ اسے دیکھ کر ہاتھ ہلا کر گرم جوشی کا اظہار کیا۔ وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل تھا۔

شمائلہ بھی وہاں مہینے میں دو بار آتی تھی۔ وسیع پیمانے پر اپنا بوتیک چلا رہی تھی ۔

قمر زمان بھی تھے جو کہ اس کی طرح میجر تھیلیسیمیا کا شکار تھے۔ انہوں نے شادی بھی کی مگر قدرت خداوندی سے اولاد سے محروم رہے۔
وہ کوہ پیما تھے۔ جب وہ فارغ ہو کر باہر نکل رہی تھی تو ان سے مڈ بھیڑ ہو گئی۔

گھنے سفید ابروؤ والے قمر زمان کے چہرے پر درشتی نظر آتی تھی مگر لہجہ مٹھاس میں ڈوبا ہوا تھا۔
ہیلو پیاری بچی کیسا جا رہا ہے سب ؟؟
جواب میں وہ کھوئ کھوئ کوئی نظروں سے انہیں دیکھ کر رہ گئی۔

اے !!!ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ میرے ساتھ کسی دن چلو پہاڑ پر۔ وہ۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ نہیں چڑھ سکتی۔
یو ڈفر!! کس نے کہا کہ تم نہیں چڑھ سکتیں؟ شفقت آمیز خفگی بھرا سوال آیا۔
وہ بہت کچھ کہتے کہتے رک گئی۔

پہاڑ اور جذبے

کوہ اور صبر

جبل اور ضبط

سدا کے رفیق ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ پہاڑوں کی تہوں میں چھپے رازوں کو ضرور پانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

خوش رہو بیٹی۔
وہ چلے گئے۔

فاطمہ کی نگاہیں سامنے لان میں لگی گھاس پر ٹک گئیں۔ نظروں کا سفر شروع ہوا۔

گھاس ،
پودے
درخت
درختوں کی چوٹیاں آسمان سے ملتے زمین کے آخری کنارے

نیلگوں آسمان کے سینے پر ہنستا سورج۔۔۔۔ ان سب پر کچھ کر گزرنے کا جذبہ بھاری پڑ گیا۔

چھ مہینے کے بعد ایک خبر تمام چینلز پر گردش کر رہی تھی

کہ تھیلیسیمیا کی مریضہ فاطمہ تحسین نے پہاڑی چوٹی سر کر کے عزم و ہمت کی نئ داستان رقم کر دی۔

خبر کے ساتھ ہی فاطمہ
ہاتھوں میں سرخ گلابوں کا بو کے تھامے مسکرا رہی تھی۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x