اُردو ادباُردو شاعریغزل

غزل / ہمارا غم تو عیاں تھا نہاں تو تھا ہی نہیں / علشبہ رزاق

غزل

 

ہمارا غم تو عیاں تھا نہاں تو تھا ہی نہیں

کہ سچ تو یہ ہے کبھی مہرباں تُو تھا ہی نہیں

 

ہم ایسے لوگ محبت میں کیوں زیاں سے ڈرے 

اور ایسے کام میں کوئی زیاں تو تھا ہی نہیں

 

کسی کو مار کے پلٹوں تو یاد آتا ہے 

فلاں تھا قتل میں شامل فلاں تو تھا ہی نہیں

 

یہ کس نے تجھ کو مرے رازوں کی خبر دی ہے

مرا کبھی بھی کوئی رازداں تو تھا ہی نہیں 

 

جہاں ضروری نہ تھا تو وہاں ملا اکثر 

جہاں ضروری تھا ملنا وہاں تو تھا ہی نہیں

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x