افسانہ

جیون کہانی / علی شان قریشی

اسٹیج پہ اندھیرا ہو گیا تھا۔ ساکت ہو جانے والا۔ خاموش کر جانے والا۔ وہاں ہر انسان یہی سوچ رہا تھا کہ یہ میں ہوں۔ مگر بھرم کا پردہ تھا جو ہر سو قائم و دائم تھا۔
ہم چند لمحوں پہلے آتے ہیں۔
الحمراء ہال کی وہ پُر شکوہ عمارت میرے سامنے تھی۔ اور میں اپنی زندگی کا پہلا اسٹیج پلے دیکھنے آیا تھا۔ اور وہ بھی اپنے دوست کے کہنے پر جو اس میں ایک کردار ادا کر رہا تھا۔۔ ہم اندر داخل ہوئے۔ ہماری ٹکٹ ابتدائی نشستوں کی تھیں۔ ہم وہاں جا بیٹھے۔ جہاں سے ہم کرداروں کو اصل میں دیکھ سکتے تھے۔ ان کے لہجوں کو سن سکتے تھے۔ ان کے تاثرات پڑھ سکتے تھے۔
پھر پلے شروع ہوا اور پردہ اٹھتا چلا گیا۔۔۔۔
کہیں سے پہلی آواز ابھری۔
"پلے۔۔۔۔
جیون کہانی۔۔۔۔
لکھاری کا نام۔۔۔
سید آلِ محمد کاظمی۔۔۔”
ایک کونے سے چار لڑکے نکلتے ہیں۔ جن کے ہاتھوں میں پوسٹر ہیں۔ اور وہ چلتے ہوئے اسٹیج کے درمیان میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر ہاتھوں میں بنے پوسٹر کو کھولتے ہیں اور ہمیں دکھاتے ہیں۔ جہاں لکھا ہوتا ہے۔۔۔
"جیون کہانی۔۔”
پھر ایک لڑکا بولتا ہے۔۔۔
"یہ ہے مرد کی کہانی۔۔۔”
دوسرا لڑکا پھر آگے بڑھتا ہے اور بولتا ہے۔۔۔
"یہ ہے عورت کہانی ۔۔”
تیسرا لڑکا آگے بڑھتا ہے اور بولتا ہے۔۔
"یہ کہانی ہے عورت اور مرد کے مابین جنم لینے والی زندگیوں کی۔ ایسی کہانی جہاں یا تو انسان سرخرو ہوتا ہے یا پھر ایسا نشان بن جاتا ہے کہ پھر کوئی نشان باقی نہیں رہتا۔ یہ ہے تیسرے رنگ کی کہانی۔ تیسرے نشان کی کہانی۔ تیسرے جیون کی کہانی۔ یہ ہے ہم میں سے ہی لیکن ہم میں سے نہیں کی کہانی۔۔۔۔”
چوتھا لڑکا آگے بڑھتا ہے۔ اور شعر کہتا ہے۔۔
"کہانی در کہانی ہے۔۔۔
حقیقت کہانی ہے۔۔۔
سچ بھی اک فسانہ ہے۔۔۔
جینے کا بہانا ہے۔۔۔”
پھر وہ لڑکے چلتے ہوئے واپس جاتے ہیں۔ پردہ گرتا ہے اور پھر پردہ پہلے سین کے لئیے اٹھتا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہاں کسی ہوٹل کا منظر دکھایا گیا تھا۔ کرسی میز جگہ جگہ پڑے تھے۔ اور کہیں کونے میں ایک بندہ چائے بھی بنا رہا تھا۔ تبھی ماحول میں چند کرداروں کی آمد ہوتی ہے۔۔
***********************
ہوٹل میں فضل آتا ہے۔اور چائے کا آرڈر دیتا ہے۔ پھر بیٹھ کر واپس خلا میں دیکھنے لگ جاتا ہے۔ اسٹیج کے ایک کونے سے مولوی امتیاز آتے ہیں۔ آسمان کو گھورتے فضل کی طرف دیکھتے ہیں اور اس کے قریب آ کر بولتے ہیں۔
” زندگی کا ایک نمایاں پہلو ہے حسرت۔ ح س ر ت۔۔۔ ح سے شاید کہیں رونما ہونے والا حادثہ جو دل و دماغ پہ نقش ہو جائے۔ س سے سوال اٹھتا ہے کہ یہ کیوں ہوا۔ ر سے اس پہ ردِعمل ظاہر ہوتا ہے اور ت سے یہ راستہ تکمیل کی طرف لے جاتا ہے۔ حسرت کی دوسری بہن خواہش ہے۔ اور خواہش کب کہاں کسی کی پوری ہوتی ہے اشتیاق ٹانگے والے کے بیٹے۔ کوئی نہ کوئی گھاٹا رہ جاتا ہے۔ کوئی نہ کوئی خسارا اس گریبان میں دکھائی دے جاتا ہے۔ سکھ ہو یا دکھ۔ خواہش پھر بھی اپنا وجود رکھتی ہے۔ غور سے سنو میری بات۔ یہ دنیا خواہشات کی تکمیل کا نام نہیں ہے۔ عبرت کا نام ہے۔ عبرت ہی کی یہ عام سی مثال ہے۔ اللّٰہ سے لو لگاؤ کیونکہ وہی کارساز ہے۔” وہ اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔
” مولوی صاحب۔ ایک بات تو بتائیں۔ میں نے سنا ہے کہ اللّٰہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔!” فضل ٹوکتا ہے ۔۔۔
"ہاں میرے بچے۔ وہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔” انھوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
"میرا رنگ کالا ہے۔ سفید نہیں ہے۔ کیونکہ میرے ماں باپ سیاہ تھے۔ اس وجہ سے میں ہو گیا لیکن ہر کسی کی نظر میں سفید رنگت کو پسندیدگی ہے۔ ہر کسی کی آنکھوں کو وہ بھاتا ہے۔ ہر کسی کی چاہ ہے کہ سفید رنگ کی اسے حاصل ہو۔ مجھے بدصورت ڈکلئیر کر دیا گیا۔ ہر سو ملنے والی بدصورتی پہ میں کیا کہوں۔! یہی کہوں یا سمجھوں کہ اللّٰہ تو مجھے پسند نہیں کرتا نا۔” اس کی آواز بھرائی تھی۔۔
” اس کی تخلیق میں نقص نہیں ہوتا فضل۔ ٹھہرو۔۔ میں دکھاتا ہوں کہ معاشرہ کیسے کسی انسان کو خود سے دور کرتا ہے۔ اور خوبصورتی کا کیا معیار ہے۔ لیکن اللہ کے ہاں کیا معیار ہے۔” مولوی امتیاز ایک کونے میں دیکھتے ہیں۔۔
اتنی دیر میں ایک نیا کردار ابھرتا ہے۔
************************
کہیں کونے سے نوشی کا کردار ابھرتا ہے۔ اور وہ ہیجڑوں کے انداز میں تالیاں بجاتا ہوا فضل کے پاس جا کھڑا ہوتا ہے۔۔ شوخ کپڑے۔ لپ اسٹک اور بیس پاؤڈر چہرے پہ لگائے ہوئے۔۔۔
"السلام علیکم نوشی۔ کیسا ہے تو۔ کدھر تھا اتنے دنوں سے۔ تیری بھابھی پوچھ رہی تھی تیرا۔” مولوی امتیاز نے پوچھا۔۔۔
” مولوی صاحب۔ نوشی ایک برانڈ ہے۔ آپ بھی جاتے ہیں کہ میں اپنے دل سے کتنی عزت کرتی ہوں آپ کی لیکن آپ کی تیویں(بیوی) سے نہ بنے ہے میری۔ کہہ دینا کہ نوشی کہہ رہی تھی کہ کاٹکا(ہزار روپے) لوں گی اور پھر آوں گی۔ تیری سوڈی(بزرگ عورت) نے میرا دماغ خراب کر دیا تھا اس دن۔ کہہ رہی تھی کہ میرا جوبن نہیں رہا۔” وہ نخوت سے بولی۔۔
” ارے وہ مزاق کر رہی تھی۔” انھوں نے بچاؤ کی کوئی ترکیب ڈھونڈنا چاہی۔۔
"کاہے کا مزاق۔۔!اب آپ کی تیویں مجھے بتائے گی کہ معاشرے میں نئی نوخیز مورتیں آ گئی ہیں۔ خیر بتا دینا کہ کاٹکا لوں گی۔ سارے کام کرنے کا”” وہ فیصلہ سنا چکی تھی۔۔
وہ اترا کر کرسی پہ بیٹھ گئی اور فضل کے آگے پڑی چائے اچک لی۔
"ہاں ہاں ہزار روپے ہی لے لینا تو۔ سنو وہ فطرانہ بھی نکال دیا تھا۔ وہ بھی لے لینا۔ لیکن چکر لگا دینا۔ اس سے کام نہیں ہوتا۔!” مولوی امتیاز اب نیا جہان کھول رہے تھے۔۔
” بس ایک نئی چلمانچ مورت رکھی ہے۔ ہے تو وہ کھانچڑا ہی۔ لیکن بس۔ آپ تو جانتے ہیں کہ جوبن ایسے ہی کامیاب نہیں رکھا جاتا۔ بس اسی کے ساتھ ڈھینگنے جاتی ہوں اور کچھ فنکشن بھی۔ میں بیچاری ابھینیتری۔ میرے جوبن کا مقابلہ کہاں۔ آج کل کی نوخیز مورتوں میں۔۔! لیکن اسے بھی ساتھ لے آوں گی۔ کام جلدی نمٹا کر آ جاؤں گی۔”
وہ تالی مارتی ہے۔۔
"بری بات نوشی۔ اور بتا کھانا کھایا۔!” ہمدردی آئی مولوی امتیاز کے لہجے میں۔۔
” ابھی کہاں مولوی صاحب۔ ابھی تو دہاڑی ہی نہیں لگی۔” اس نے دہائی دی۔
یہ سنتے ہی مولوی امتیاز کسی لڑکے کو کھانے کا کہتا ہے۔
"مانگنے کے علاؤہ بھی کچھ کر لو نوشی۔” فضل نے اکتائے لہجے میں کہا۔
"کڑے۔۔ بیلی کلام ناٹو۔ ہم ہیجڑوں کا مقدر یہی ہے صاحب جی۔ خیر سوکڑی ہوگی تیرے پاس۔۔!”اس نے بھرپور انداز سے فضل کو دیکھا۔۔
فضل ایک سگریٹ اس کے ہاتھ میں رکھ دیتا ہے۔
"لوتر بازیاں ہی تو ہر جگہ ہیں صاحب۔ ہمارے لئیے سگنلز ہی ہوتے ہیں جہاں جگہ جگہ کے پکے مردوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ کہیں نظروں کا کہیں چھونے کا تو کہیں جسموں کے ملنے کا۔ یہی اذیت کم ہے صاحب۔ شریف مرد اپنے ذات کا کونڈا کرنے کے لئیے پہنچ جاتے ہیں ہمارے پاس اور پھر ہم بھی انہیں انھی کی برادری والوں کے سامنے سرخرو کر دیتے ہیں کہ یہ پیور مرد ہیں۔ ایسی ہی زندگی ہے ہماری۔ ” نوشی لمبے لمبے کش لے رہی تھی۔۔
"تو کوئی کام ڈھونڈھ لو۔” فضل نے سیدھا راستہ دکھانا چاہا۔۔
” جوانی میری بجلی طوفان میرا نخرا۔۔۔
جوانی میری بجلی طوفان میرا نخرا۔۔۔
ہائے کیا ہی گانا ہے میڈم نور جہاں کا۔ جیسے نور جہاں کی پکی سچل آواز ہی اس کی ایک واحد خوبی بنی تھی اس طرح ہمارے مقدر میں یہی کام لکھ دیا گیا ہے۔ ہماری سانسیں بھی معاشرے کے ان گدھوں کے نام لکھی ہیں جو ہمیں کام کا وعدہ کرتے ہیں۔ اور یہ بھی سچی بات ہے صاحب جی۔ کہ اس معاشرے میں ہم نہ ہوں تو یہ معاشرہ اٹھک پٹھک کا شکار ہو جائے۔ اکثر مردوں کو تو یہ ہیجڑے ہی راس آتے ہیں۔ یہی زندگی کی کہانی ہے۔۔۔
عجیب داستاں ہے یہ۔۔۔
کہاں سنو کہاں ختم۔۔۔۔
اب خود کی طرف دیکھو۔ مجھے تم سے زیادہ حسین مرد کوئی نہیں لگتا۔ کیونکہ چوڑا جسم ہے تیرا۔ گھنی مونچھیں۔ رنگ کا اچار ڈالنا میں نے۔ اتنا سوہنا منڈا۔ خدا کی قسم نوشی پکی عورت ہوتی تو اب تک تجھ سے بھاگ کر شادی رچا لیتی اور ساری عمر تیری سیوا کرتی۔ اگلے جنم میں جب اللّٰہ مجھ سے پوچھے گا نہ کہ نوشی کیا بننا ہے تب میں نے کہہ دینا ہے اس صاحب کی جورو بنا دے بس۔”
نوشی اٹھتا ہے تالی مارتا ہے اور مولوی فضل کا منگوایا ہوا کھانا اٹھا کر دوسری طرف چلا جاتا ہے۔۔۔
مولوی امتیاز فضل کی طرف دیکھتے ہیں۔
"زندگیاں اس سے زیادہ سخت ہو سکتی ہیں۔ کہیں محبت نہیں ملتی تو کہیں جسم۔ اور کہیں تو کچھ بھی نہیں ملتا۔” مولوی امتیاز نے کہا۔۔
فضل خاموش ہی رہا تھا۔۔۔
تب دو اور کرداروں کی آمد ہوتی ہے۔
************************
دو آدمی بحث کرتے ہوے آ رہے ہیں۔ اور وہ مولوی صاحب کی دوسری طرف بیٹھ جاتے ہیں۔ مولوی امتیاز سر جھکا لیتا ہے اور فضل کن اکھیوں سے ان دونوں کو دیکھتا ہے۔ جو کہ ایک بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔
” یار حسن۔ آج کل کی لڑکیوں کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ شاید ہی کوئی ہوگی جو بچ گئی ہو گئی۔ جو ورجن ہو۔ ورنہ آج کل بلوغت سے پہلے ہی انسان پہ آشکار ہو جاتا ہے کہ وہ کیا ہے۔” یاسر نے اپنا تجزیہ پیش کیا۔۔
"لیکن جس لڑکی سے میں محبت کرتا ہوں نہ یاسر۔ وہ ٹوٹ کر مجھے چاہتی ہے۔ بچپن سے ہماری منگنی ہو گئی تھی۔ تب سے اب تک وہ ہر بات مجھ سے کہتی ہے۔ ہر چیز کے بارے میں مجھ سے جب تک پراپر ڈسکس نہ کر لے تب تک وہ چین سے نہیں بیٹھتی۔ اور میں بھی محبت کرتا ہوں اس سے۔ ایسی محبت کہ دوسری لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔” حسن نے اپنی باتوں سے اپنا دامن دکھایا۔
"سرکار پانچوں انگلیاں ایک برابر نہیں ہوتیں۔ میں کب کہہ رہا ہوں کہ پوری دنیا خراب ہے۔ اگر پوری دنیا خراب ہوتی تو کب کا عزاب آ چکا ہوتا۔ کب کا زندگیوں سے یہ جنت کا تصور ہٹ گیا ہوتا۔ میرا یہ کہنے کا مطلب نہیں تھا کہ یہ ہو نہیں سکتا۔ لیکن میرے کہنے کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ یہ ہو سکتا ہے۔ ہر جگہ زندگیاں موجود ہیں۔ ان کے نفوس موجود یے۔ ہاں اگر نفس کی مانو گے تو اندھا کنواں تمھارے لئیے موجود ہے۔” یاسر پھر اپنے موقف پہ رہا تھا۔۔
” سیدھی بات ہے ویسے یہ بھی یاسر کہ جوانی بڑی اتھری گھوڑی ہے۔ اس پہ قابو پانا انتہائی مشکل یے۔ اس اکیسویں صدی میں جہاں ہر طرف کوئی نہ کوئی جال بچھا ہوا ہے وہاں اپنی عزت کو محفوظ کرنا جان جوکھوں میں ڈالنا یے۔ اور میں نے تو ڈالی ہے بھئی۔ میں آج تک کسی کے ساتھ جسمانی روابط نہیں رہے۔ وجہ صرف یہی ہے کہ میں محبت کرتا ہوں۔ سچی والی محبت۔ وہ محبت جو شاید۔ شیریں فرہاد ، لیلی مجنوں ، سسی پنوں ، ہیر رانجھا ، رومیو جولیٹ وغیرہ کیا کرتے تھے۔ کہ دیکھ لیا اور پھر ہر سمت امن ہو گیا۔ میری پوری زندگی ہو گئی کبھی کسی عورت کو ہاتھ لگا کر نہیں دیکھا یاسر۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ خود کو بچاؤ گے تو ہی آپ کا ہمسفر بچ جائے گا۔” حسن بھی ڈٹا رہا تھا۔۔
"بھئی میرے اعمال نامے تو بھرے ہوئے ہیں۔ میرے تو ہر سو چرچے ہیں۔ ہر سمت نگاڑے ہیں۔ ہر جگہ بیان ہیں کہ یاسر ایسا ہی ہے۔ اب تم جیسے پیس مشکل سے ہی مارکیٹ میں ملا کرتے ہیں۔” یاسر صاف گوئی سے بولا۔۔
اتنی دیر میں نوشی دوسری طرف سے نکل آتا ہے۔ اور وہ سیدھا حسن کی طرف جاتا ہے۔ پھر بولتا ہے۔۔۔
"حسن صاحب۔ یہ اس دن میرے کمرے میں تمھارا تعویذ رہ گیا تھا۔ تم نے کپڑے اتارے تھے تو دوسری میز سے پیچھے کی طرف گر گیا تھا یہ لے لو۔ اور آئندہ جب آؤ تو اپنی چیزیں پوری کر لینا۔ بعد میں نوشی زمہ دار نہیں ہے۔”
"اور مولوی صاحب آپ کی تیویں آئے تو بتا دینا۔۔ اس کے ہوتے ہوئے آوں گی۔ ورنہ تو نے پھر کونڈا کر دینا میری جوانی کا۔ جیسے پچھلی بار کیا تھا۔ یاسر صاحب تیرے سے تو اپن کا چلتا رہتا ہے۔ اور اے ہینڈسم۔ چلے گا میرے ساتھ۔!”
چاروں کرداروں کو سانپ سونگھ گیا۔۔۔ فضل اٹھ کر باہر چلا جاتا ہے اور نوشی کمر لچکاتی اسی کی طرف چلی گئی۔۔۔”
*********************
پردہ گر گیا تھا لیکن مجھ سمیت ہر کسی کا پردہ چاک کر گیا تھا۔۔۔۔
********************

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x