اُردو ادباُردو شاعریغزل
غزل / میرے اپنوں سے بھرا ایک جہاں ہے مجھ میں / ڈاکٹر اشفاق ناصر
غزل
میرے اپنوں سے بھرا ایک جہاں ہے مجھ میں
اب بھی آباد کوئی خالی مکاں ہے مجھ میں
اس کو ہنستی ہوئی آنکھوں سے کیا ہے رخصت
اس کو رونے کے لیے چشمِ نہاں ہے مجھ میں
جھانک کر دل میں کئی بار پلٹ ایا ہوں
تو اگر دل میں نہیں ہے تو کہاں ہے مجھ میں
وقت کے منطقے اے دوست مساواتی نہیں
تو جو بوڑھا میرے باہر ہے جواں ہے مجھ میں
یہ بتاتا ہے کوئی شخص ہوا کرتا تھا
یہ جو بہتے ہوئے پانی کا نشاں ہے مجھ میں
مجھ کو ایک پھول کے مرجھانے کا دکھ ہے اب تک
جس نے یہ مجھ کو بتایا تھا خزاں ہے مجھ میں
اس میں تو آ تو گیا ہے کہیں جائے گا نہیں
تو نہیں جانتا اک شہرِ گماں ہے مجھ میں
ِدیکھنے کو چلے آئے ہیں جناب اقبال
وہ جو ایک سرِ نہاں تھا وہ عیاں ہے مجھ میں
کس کے موجود رہے نقشِ کفِ پا اشفاق
ِتو بھی مٹ جائے گا جو ریگ رواں ہے مجھ میں




