
ایسا نہیں کہ لائیٹس، کیمرہ، ایکشن کی چکا چوند دنیا میں عابد کے ساتھ "وہ آیا، اُس نے دیکھا اور فتح کر لیا” والا معاملہ ہوا تھا۔ اُس کی فلمی دنیا میں شاندار کامیابی کے پیچھے ایک طویل عرصے کی جدو جہد شامل تھی۔ اب ایسا بھی نہیں تھا کہ اُس نے چھوٹے چھوٹے کردار ادا کر کے اپنا آپ منوایا ہو۔ وہ بننا تو ہیرو چاہتا تھا مگر بدقسمتی سے کبھی کوئی کردار اس کو دیا ہی نہیں گیا۔ اس کے بجاے وہ ٹی وی، تھیٹراور بعدازاں فلم کے رائٹرز، پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کے ساتھ ان کے معاون کے طور پر کام کرتا چلا آیا تھا تاوقتیکہ اس پر فلم انڈسٹری کے ایک مایہ ناز ڈائریکٹر کی نظرِ کرم پڑی جس نے نہ جانے کیا سوچ کر اپنی آنے والی فلم میں عابد کو مرکزی کردار کی پیشکش کر دی۔اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ عابد نے اس قدر ڈوب کر اداکاری کی کہ فلم بلاک بسٹر ہو گئی اور یوں عابد اپنے فلمی نام مہاراج سے پردہ سکرین پر چھا گیا۔ جلد ہی وہ فلمی افق پر ایسا سورج بن کر چمکنے لگا جس نے مختصر عرصہ میں کئی جگمگاتے ستاروں کی روشنی کو ماند کر ڈالا۔
اب ہر بڑا ڈائریکٹر اور پرڈویوسر مہاراج کے پیچھے پیچھے اور مہاراج سب کے آگے ہی آگے سرپٹ دوڑا چلا جا رہا تھا۔ اس کی شہرت ملکی حدود سے نکل کر آس پاس کے ملکوں تک چا پہنچی اور آنے والے برسوں میں اس کے فن کا طوطی چہار دانگ عالم میں بولنے لگا۔ اس کو اپنی فلم میں کام دینے کے خواہش مند ہوش ربا معاوضہ ادا کرنے کو تیار تھے کیونکہ مہاراج ایک ایسا پارس بن چکا تھا جس کے چھونے سے مٹی سونا نہیں بلکہ ہیرے جواہرات اگلنے لگتی تھی۔ دولت کی ریل پیل نے مہاراج کا دماغ ساتویں آسمان پر پہنچا دیا۔ ماں باپ تو بہت پہلے ہی اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔ بھائی بہنوں سے وہ وہی سلوک کرنے لگا جو عُسرت کے دنوں میں انہوں نے اس کے ساتھ روا رکھا تھا۔مداحوں کی ایک فوج تھی جو مہاراج کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے گھنٹوں محوِ انتظار رہ سکتی تھی۔ ایک سے بڑھ کر ایک حسینہ اُس کے دامِ فریب میں خوشی سے گرفتار ہونے اور اُس کی چند لمحوں کی قربت پر فدا ہونے کے لیے تیار رہتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مہاراج نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ کسی ایک جیون ساتھی کی تمنا نہیں کی کیونکہ اس طرح نہ صرف اُس کی بے راہ رویوں پر قدغن لگ جاتی بلکہ اُس کو ڈر تھا کہ دولت کے خزانے پر کسی ناگ کا پہرہ بھی لگ جائے گا۔
اگرچہ صحیح معنوں میں کوئی اُس کا دوست نہیں تھا مگر ناونوش کی محفلوں میں اچھی خاصی رونق لگی رہتی تھی۔ ہر کوئی اس کی قربت کا خواہاں تھا کیونکہ مہاراج شراب و شباب کی ان محفلوں پر پیسہ پانی کی طرح لٹاتا تھا۔ حساب کتاب رکھنے کا اُس کے پاس وقت تھا نہ ہی وہ اپنی دولت کو اس قدر کم گردانتا تھا کہ اعدادوشمار کے گورکھ دھندے میں الجھے۔ مہاراج جس شو میں بھی پرفارم کرنے جاتا وہاں انتظامیہ کے لیے ہجوم کو قابو کرنا بہت بڑا مسلہ بن جاتا لیکن اسی بے قابو ہجوم کے باعث منتظمین کی چاندی ہو رہی تھی۔ بیرونِ ملک اس کے شوز ریکارڈ توڑ بزنس کرتے۔ ان سب عوامل کی وجہ سے اس کے پاس سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں تھی۔ اپنے فن میں وہ اس قدر طاق تھا کہ مداح اس کی کاپی کرنے کے لیے ہر حد عبور کرنے کو تیار تھے۔ہن اس پر دھنا دھن برس رہا تھا اور وہ عیش و عشرت کی گنگا اور کیف و نشاط کی جمنا میں غوطہ زن تھا۔
اس بے لگام بے راہ روی نے جلد ہی اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا۔ حد سے بڑھ کر بد احیتاطی، کثرت شراب نوشی اور بلا روک ٹوک حسیناوں کی قربت نے اپنا رنگ دکھایا۔ معالجین کی بارہا تنبیہ کے باوجود مہاراج نے اپنی روش نہ بدلی نتیجتا وہ مرحلہ بھی آن پہنچا جہان مہنگی سے مہنگی ادویات اور قابل ترین معالج بھی بے بس ہو جاتے ہیں۔پرفٖضا مقامات کی آب و ہوا بھی مہاراج کی گرتی ہوئی صحت پر خاطر خواہ اثر نہ ڈال سکی۔ دن بدن جسما نی حالت گراوٹ کا شکار رہی جس کا لازمی نتیجہ ذہنی حالت کی زبوں حالی کی صورت میں بھی ظاہر ہونے لگا۔شراب و شباب کی محفلیں بے رونق ہوئیں مہاراج کے مصاحبین بھی ساتھ چھوڑ گئے۔ لے دے کر دو، تین ملازم رہ گئے جو بحالت مجبوری کام کرتے تھے کیونکہ ابھی تک تنخواہ کے نام پر اُن کو ماہانہ رقم مل رہی تھی۔ مہاراج کی شہرت اور صحت کے سورج کو گرہن لگا تو اُسے احساس ہوا کہ اُس نے اپنے ساتھ کتنا ظلم کیا مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت! اُس نے شراب نوشی سے ہاتھ کھینچ لیا، حسینائیں تو پہلے ہی داغِ مفارقت دے کر جا چکی تھیں۔اُس نے پابندی سے ادویات لینی شروع کیں۔ خراب صحت میں رتی رتی فرق پڑنے لگا مگر اب وہ پہلے جیسی بات نہ ہو سکتی تھی۔ مہاراج کی جوانی اور رعنائی کو گہن لگتے ہی کام ملنابند ہوچکا تھا۔
اِسی کسمپرسی کے عالم میں ایک دن ایک قدرے غیر معروف پروڈیوسرصاحب ایک ڈائریکٹرصاحب کے ساتھ بظاہر مہاراج کی مزاج پرسی کے لیے اس کے گھر تشریف لائے۔ باتوں باتوں میں انہوں نے مہاراج کو اپنی اگلی فلم میں کام کی پیشکش کی۔ مہاراج کو اپنی سماعت پر یقین نہ آیا اور یکایک اُس کی آنکھیں میں امید کے دیپ جل اٹھے اُس کو اپنی عظمتِ رفتہ کی بحالی کا گمان ہوا۔اُس نے سبنھل کر ڈائریکٹر سے ہیروئن کا پوچھا تو ڈائریکٹر نے ایک ابھرتی ہوئی نوخیز اداکارہ کا نام لیا جس نے اپنے ہوش ربا حسن اور دلکش اداوں سے اپنی پہلی ہی فلم میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ مہاراج کا دل بلیوں اچھلنے لگا لیکن ڈائریکٹر کی اگلی بات سن کر مہاراج کے دل پرجیسے ایک طاقتور گھونسہ پڑا۔
وہ اپنی لے میں کہہ رہا تھا: "ہیروئن کے قریب المرگ باپ کا کردار آپ سے بہتر کوئی نہیں نبھا سکتا“.




