خواہش کا ابدی روپ / معوذ حسن
خواہش کا ابدی روپ
یہی ہے وہ خوابوں بھری آنکھ
ہم جس کی ایماء پہ
صحراؤں کو چھوڑ کر کوہساروں کی جانب رواں ہیں
کہیں برف کی چادروں میں پڑی سلوٹوں کے مناظر
کہیں آبشاروں سے بہتے ہوئے گیت
جن سے سُروں کی زباں بن گئی ہے
کہیں لکڑیوں سے بنے گھر
جہاں نیلے ہونٹوں میں وحشت کی گلکاریاں ہیں
کہیں سبز جنگل
کہ جن میں کئی مارخوروں نے
سینگوں کے ہتھیار سے سانپ مارے ہوئے ہیں
وہیں ہم کھڑے سوچتے ہیں
کہ پیلی رتوں کے محافظ، خزاں دوستوں نے
کہیں راستے میں مصیبت اگائی تو ہوگی
مگر سن بہاروں کے پروردگارا ،
کہ تو نے ہر اک مرحلے میں ہماری مدد کی
یہ ہم جو محبت کا تعویذ پہنے ہوئے موت سے ڈر رہے ہیں
تو پھر اعتقادی مناجات کس چیز کا نام ہے؟
ایک تابوت، مرقد کہ استھان۔۔۔۔۔!
مگر اس سے پہلے!
ہمیں اپنی آنکھوں کا گھر ڈھونڈنا ہے
جہاں ہم ہیں اور یہ پہاڑ!!
جہاں زندگی کی محبت سے راہیں جدا بھی نہیں ہیں
جہاں خواہشیں آدمی بن کے جیتی رہیں گی




