اُردو ادبافسانہ

اسیر محبت / راحت سرفراز

وہ فاختہ تھی۔امن کی علامت۔ اس کی سفید رنگت اس کی باطنی پاکیزگی کا ثبوت تھی۔ اس کی نزاکت ۔۔اس کی دلی نرمی پر محمول کی جاتی۔۔۔۔اس کی سیاہ چمکدار آنکھیں۔۔۔ذہانت اور معصومیت کا امتزاج تھیں۔
وہ بہت چھوٹی سی تھی جب اسے گھر کے افراد سے انسیت پیدا ہوگئ۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اس گھر میں کیسے آئی۔ اس سب کو اپنے لئے مہربان پایا تھا۔
ہمیشہ اسے مختلف قسم کی غذائیں کھلائی جاتیں۔ تا کہ وہ صحت مند دکھائی دے۔ کبھی کیلشم کا پاوڈر۔۔۔کبھی مکئ۔۔اور جب وہ بہت نخرے کرتی تو گھر والے سمجھ جاتے کہ اسے ابالے ہوے آدھے کچے چاول کھانے ہیں۔۔ اور اس کے لئے خاص اہتمام کے ساتھ چاول بناے جاتے۔۔۔۔
وہ ہر دیکھنے والے کی نگاہ میں اپنے لئے ستائش محسوس کرتی۔۔۔اور ہواوں میں اڑنے لگتی۔
جب وہ چھوٹی تھی۔
گھر والے کہیں جاتے۔۔۔تو اسے ساتھ لے جاتے۔۔۔اور ہر جگہ اس کی خوب صورتی کے قصیدے پڑھے جاتے۔۔۔
پھر ایک دن۔۔۔گھر کے سب سے بڑے بیٹے کو نہ جانے کیا سوجھی۔۔۔
اس نے اسے ایک باغ میں لے جانے کی ضد کی۔۔۔گھر والوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ وہ اڑ جاے گی۔۔۔مگر وہ بضد رہا کہ اس کے سب دوست اس کی پیاری سی فاختہ کو دیکھنا چاہتے ہیں۔۔
اس کی ضد کے آگے ہار مان لی گئ۔۔۔اور یوں۔۔۔زندگی میں پہلی بار۔۔۔اسے کھلی فضاء میں آزاد رہنے دیا گیا۔۔۔مگر وہ اڑ نہیں سکتی تھی۔ کیوں کہ اسے پرواز سکھائی نہیں گی تھی۔ اسے ایک نسبتا کم اونچے درخت کی نیچے والی شاخ پر بٹھا دیا گیا۔اور خود اس پر نگاہ رکھی گئ۔۔۔موسم انتہائی خوش گوار تھا۔ سفید اور نرم روئی جیسے بادل ۔۔۔اسے اپنے ہی وجود کا حصہ لگے۔ اسے محسوس ہوا کہ ہوا اس سے سرگوشیاں کر رہی ہے۔ اسے اکسا رہی ہے کہ وہ اڑان بھرے۔ اس نے ہوا کی سرگوشیوں کو حیرانی سے سنا۔۔۔نا سمجھی سے سمجھا۔۔۔اور آسمان کی وسعتوں میں محو پرواز پرندوں کو اس ہوا کی سرگوشیوں پر مست ہو کر ۔۔۔اٹھکیلیاں کرتے دیکھا۔۔۔اس کے من میں اڑنے کی خواہش بیدار ہوئی۔۔۔پر کھول کر خود کی طاقت کو آزادی کے ساتھ محسوس کرنے کی حسرت نے انگڑائی لی۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ اس منہ زور خواہش کو عملی جامہ پہناتی۔۔۔اسے پکڑ لیا گیا۔۔۔اور بھرپور پیار کا اظہار کیا گیا۔اور اس کا واپس گھر کی طرف سفر شروع ہوا۔ سارے راستے ۔۔۔اس سے باتیں کی گئیں۔ اس کی نرمی کو ہاتھ لگا کر چھوا گیا۔ اس کی آنکھوں کو سراہا گیا۔ اس کی رنگت کی تعریفیں کی گئیں۔ اور کچھ نے یہ تک کہہ دیا کہ کاش ہمارے پاس بھی ایسی فاختہ ہوتی۔
سراہے جانے کی وہ عادی تھی۔۔۔۔اور خوش بھی ہوتی تھی۔۔۔لیکن آج اس کے دل کو نہ جانے کیا ہوا تھا کہ اسے سب کی تعریفیں خنجر کی نوک کی طرح چبھ رہی تھیں۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ ابھی تک اسی باغ کی ٹھنڈی ہواوں میں ہے۔ وہ خود کو آسمان پر پرواز کرتے ہوے دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔مگر۔۔۔اسے یہ سکھایا نہیں گیا تھا۔۔۔اس کے پاس پر تھے۔۔۔مگر پرواز کیسے کی جاتی ہے ۔۔۔اس کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ وہ گھر پہنچنے تک۔۔۔
بے شمار کیوں ، کیسے اور کب جیسے سوالوں کو سوچ سوچ کر نڈھال ہوگی۔ گھر پہنچتے ہی اسے پنجرہ میں ڈال دیا گیا۔۔۔مگر یہ کیا۔۔۔۔یہ پنجرہ اسے تنگ ۔۔۔گندہ اور بے کار لگ رہا تھا۔۔۔ پہلے یہی سجا سنورا سا پنجرہ اس کی کل کائنات تھی۔۔۔مگر اب۔۔۔۔وہ حیران تھی کہ چند گھنٹے کی آزادی نے اس کے دل کی دنیا ہی بدل ڈالی تھی۔۔۔گھر کے ہر فرد نے اس کی خاموشی اور اداسی کو محسوس کیا۔۔۔اپنے اپنے اندازے بھی بیان کئے۔ لیکن کوئی بھی اس کے مرض تک نہ پہنچ سکا۔۔۔ایسا مرض جس میں گھٹن کا احساس تھا۔۔۔جس میں ارادوں کی شکستگی تھی۔۔۔جس میں حسرتوں کا خون تھا۔۔۔
جس میں بے چینیاں تھیں۔۔۔جس میں ان گنت سوچیں تھیں۔۔جس میں بے شمار منصوبے تھے۔۔۔اور جس میں ان سب کی ناکامی کا خوف بھی تھا۔۔۔کوئی اس کا نبض شناس نہ تھا۔۔۔
وہ سارا دن بنا کھاے پئے سر جھکاے اس پنجرے کے ایک کونے میں بیٹھی رہتی۔۔۔
پھر ایک دن۔۔۔گھر کے بڑے بیٹے نے پھر ضد کی ۔۔۔۔اسے باغ میں ساتھ لے جانے کی۔۔۔مگر گھر والے راضی نہ تھے۔ وہ سوچتے تھے کہ اسے بری نظر کا سامنا ہے۔۔۔لیکن۔۔۔پھر ضد جیت گئ۔۔۔نصیحتیں اور حقائق ہار گئے۔وہ اسے اپنے ساتھ لے گیا۔ وہی خوب صورت باغ۔۔۔اس میں طرح طرح کے پھول۔۔۔ہوا کی شوخیاں۔۔۔بادلوں کی اٹھکیلیاں۔۔۔
وہ کسی سپنے میں جی رہی تھی کہ اتنے میں اس کی سماعتوں سے آواز ٹکرائی۔۔۔
پیاری ننھی فاختہ۔۔۔تم ہمارے گھر کا خوب صورت سا حصہ ہو۔تم سے محبت کا ایک انوکھا سا تعلق ہے۔ تمہاری من موہنی صورت۔۔۔میرے دل کو گدگداتی ہے۔ تمہاری چہچہاہٹیں مجھے زندگی کا احساس دلاتی ہیں۔ میں تمہاری ہر شرارت پہچانتا ہوں۔۔۔تم نے کیسے سوچ لیا کہ میں تمہاری اداسی کی وجہ نہ جان پاوں گا۔۔۔لو یہ تمہارا باغ ہے۔ شام تک یہاں رہو۔۔۔میں تمہیں آج اڑنا سکھاوں گا۔۔۔تم جی بھر کر اڑو۔۔۔آسمان کی وسعتوں میں پرواز کرو۔ لیکن دیکھو ۔۔۔میرے اعتبار کی رسی ہاتھ سے مت جانے دینا۔۔۔مجھے سب نے روکا۔۔۔مگر میں نے تمہارے دل کی آواز کو سنا۔۔۔تمہیں بھی میرے دل کی آواز سننی پڑے گی۔ پیاری فاختہ ۔۔۔شام ہونے سے پہلے۔۔۔اسی باغ کی زمین پر واپس اتر آنا۔۔۔۔میں یہاں تمہارا منتظر رہوں گا۔ چلو تمہیں اڑنا سکھاوں۔۔۔
اور اس سے اگلے ہی لمحے اس کے ہر کھول کر اسے بلندی کی طرف اچھالا گیا۔۔۔پہلی بار میں وہ خود کو سنبھال نہ پائی۔۔۔اسے پھر محتاط انداز سے اچھالا گیا ۔۔۔تیسری بار پھر۔۔۔پھر چوتھی بار۔۔۔اور متعدد دفعہ۔۔۔آخر اس نے اڑان بھرنا سیکھ لیا۔۔۔پر پھیلانا سیکھ لیا۔۔۔اور آہستہ آہستہ بلندی کا سفر شروع ہو چکا تھا۔
یہ تو جہان ہی کوئی اور تھا۔سفید اور نیلگوں آسمان کے نیچے۔۔۔ پرندوں کے غولوں کے درمیان۔۔۔وہ محو پرواز رہی۔۔۔خود میں مگن ہوئی کبھی ۔۔۔تو کبھی زندگی کی خوب صورتی کو محسوس کرتے ہوے کبھی واپس نہ لوٹنے کا عہد کرتی رہی۔۔۔۔مگر یہ کیا۔۔۔۔
جیسے ہی شام نے اپنے پر پھیلاے۔۔۔پرندوں نے اپنے اپنے گھروں کی راہ لی۔۔۔۔وہ مایوس ہوئی۔۔۔اتنی جلدی شام ہوگئ۔۔۔ اس نے سوچا وہ کسی درخت کی اونچی شاخ پر اپنا آشیانہ بنا لے گی۔۔۔آشیانہ بنانا مشکل تھوڑی تھا۔۔۔یہ تو فطرت میں شامل تھا۔ ایک ساتھی کی خواہش اور چھوٹے سے آشیانے کی خواہش نے اسے اتنا بے قرار کر دیا کہ وہ زمیں کی طرف نہ پلٹنے کا عہد کر لیا۔۔۔۔
لیکن۔۔۔یہ کیا۔۔۔۔ اس کے پر ایک انجانے بوجھ سے بھاری ہونے لگے تھے۔۔۔اس کی پرواز دشوار ہوگئ۔۔۔تب اس کی نگاہ زمین کی طرف گئ۔۔۔اس نے دیکھا وہ اب بھی وہاں بیٹھا ہوا آسمان کی طرف پر امید نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اس نے آسمان کی بلندیوں سے زمین کی پستیوں کا سفر طے کرتے ہوے جان لیا تھا کہ ۔۔۔
اس کے پر پھیلانے سے پر سمیٹنے تک کا سفر طے ہو چکا ہے۔ اسے پروں کے بھاری پن کی وجہ سمجھ آ چکی تھی۔
انسان بہت ظالم ہے۔۔۔خاص طور پر وہ منتظر بیٹھا ہوا انسان اسے بہت ہی ظالم لگا۔جس نے اپنی امیدوں، اعتبار اور احسانوں سے سجی ڈوری اس کے پروں کے ساتھ باندھ کر اسے ازاد کیا تھا۔۔۔
اس کا زمین کی طرف لوٹنا۔۔۔وہاں بیٹھے شخص کو محسور کر گیا۔ وہ اپنے اعتبار کی جیت پر باغ باغ ہو گیا تھا۔
لیکن۔۔۔فاختہ۔۔۔اس کی امیدوں کا باغ اجڑ گیا تھا۔بلندی سے پستی کا سفر اس کی ذات کے سکون کو برباد کر گیا تھا۔
اس نے محسوس کر لیا تھا کہ اسے چند گھنٹوں کی آزادی کے بعد کئ قید
۔۔زیادہ تکلیف دیتی ہے۔۔۔اس نے آئندہ ان چند گھنٹوں کی ازادی کی خواہش بھی مار دی۔۔۔اور اس خوشی اور حیرت میں ڈوبے ہوے شخص کے کاندھے پر سوار ہو کر گھر کی راہ لی۔۔۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x