تبصرہ کتب

کتاب برقاب /تبصرہ شاہین عباس

                                             کتاب:برقاب 

مصنف :-عقیل عباس 

تبصرہ :شاہین عباس 

کسی ادبی تصنیف کی پہلی شناخت اس کے نام یا عنوان سے قائم ہوتی ہے۔ جو قاری پر متن کی تفہیم کا پہلا در وا کرتا ہے اور پھر اسے اندر کے احوال و آثار تک رسائی دیتا ہے۔ عقیل عباس کا مجموعہ غزل ” برقاب” کے عنوان اور بیان کی نوعیت بھی کچھ ایسی ہےجو ان کے طرزِ زندگی کے معمولات، مشاہدات کے تسلسل اور پیشِ نظر لینڈ سکیپ (Landscape) کی مصرع بہ مصرع تکرار اور وابستگی سے عبارت ہے۔ برق اور آب کے باہمی تعلق کی متعدد تہ در تہ براق نما ، طوفانی صورتیں ہو سکتی ہیں جن میں ایک ابتدائی اور انتہائی صورت عقیل کے ان دو شعروں میں موجود ہے۔

دائرہ دائرے کو چھوتا ہوا

اور قوسین پر حجاب اس کا

پہلے پہلے وہ معبدوں میں جلی

پھر دھواں بڑھ گیا جناب اس کا

کسی ادیب یا شاعر کے امتیاز کا اولین پیمانہ اس کے شخصی انفراد اور داخلی امتیاز ہی کو قرار دیا جا تا ہے مگر خارج کی ان صورتوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو کبھی مٹی، کبھی پانی، کبھی زمینی چراغ کی لرزتی ہوئی لَو اور کبھی چمکتی کڑکتی ہوئی آسمانی بجلی کا روپ دھارےنوکِ قلم سے سطحِ قرطاس تک صاحبِ قلم کے ہنر کی مستقل گواہ بن جاتی ہیں۔ یوں ایک شاعر وجود میں آتا ہے ۔وجودِ اول میں وجودِ ثانی کا اضافہ ہوتا ہے۔ یہ وجودِ ثانی کائنات کو اپنے طور پر وجود عطا کرتا ہے اور موجود و ناموجود کی تفہیم میں ایسے پہلوؤں کی پردہ کشائی کرتا ہے جو بصورتِ دیگر نگاہ سے اوجھل رہ جاتے ۔ یہ وجود باقی و فانی ہر دو صورتوں میں وجودِ کُل ( نفی و اثبات) کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔ یہی اِس کا اصل منصب بھی ہے۔ یہ اشعار دیکھیے:

غار تھا ، غار کی تنہائی تھی آگے میں تھا

دفعتاَ آگ سی لہرائی تھی ، آگے میں تھا

 

فلک سرائے میں ٹھہری ہوئی ہو میرے لیے

زمین زاد ہو پوشاک سے بری بھی ہو

 

تری بچی ہوئی مٹی سے میں بنایا گیا

شروعِ عمر سے پیدا ہے یہ کجی مجھ میں

 

بجھ گئی آنکھ اک چمارن کی

ہو گیا روشنی کا سدِ باب

 

خاک کو خاک کا پیوند لگے گا اور بس

ہم کو ان ارض و سماوات سے کیا لینا ہے

عقیل عباس کی شاعری اِسی ایک وجود کا اُسی دوسرے وجود کے گرد ہمہ وقت سفر، سیاحت ، آوارگی اور گردش کا نام ہے۔ مگر اس بات کا مطلب یہ نہیں کہ عقیل عباس کی اپنی تنہائی ‘ برق’ کی تجلی اور ‘آب’ کی بے کرانی میں کہیں گم ہو گئی ہے۔ دیکھا جائے تو عقیل کی خلوت بھی اسی طرح محفوظ ہے جیسے اُن کی جلوت۔ ان کا طوفانِ برق و باراں جہاں ایک طرف مردم آگاہی کے سرو قامت شعلوں کو ہوا دیتا ہے اور دوسری طرف مردم بیزار زمانےکی بے جادہ و بے حساب خاکستر پر بھی روشنی ڈالتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔ عقیل کے یہاں اس عمل کی مرحلہ وار صورت اور ارتقا یا ابتلا کی کڑیوں کو درج ذیل اشعار میں تنظیم و ارتباط کے اہتمام کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے:

اس نے پوشاک آگ میں جھونکی

ہم نے لہرا دیے گلاس اپنے

 

چمکتی نیلی نگاہوں کا گھیرا گھٹنے لگا

جب آگ بجھ گئی جو تھی بچی کھچی مجھ میں

 

گھر کی اشیاء پڑوس کی بِلی

بس یہی ہیں سخن شناس اپنے

زیرِ نظر کتاب میں غزل کی شعریات اور عملِ تخلیق کی کلیشے نما بندشوں سے انحراف کی ایک صورت دکھائی دیتی ہے۔ رائج زبان اور محاورے کے برعکس خالصتاَ اپنی اور کسی نئی زبان و محاورہ کو شعری تجربہ کی بنیاد بنانے کا عمل بعض کلاسیکی اور معاصر شعراء کی طرح عقیل عباس کے یہاں بھی دکھائی دیتا ہے ۔ قاری چونک اٹھتا ہے اور سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ غزل کی یہ زبان؟

*مگر عقیل عباس داد کے مستحق ہیں جو غزل کی زبان کو لغت سے باہر نکال کر ایسے سلینگز (Slangs ) کی سطح پر لے آئے ہیں جن سے سماجی، ثقافتی اور علاقائی لہجوں کو ایک طرح کا اعتبار اور تحفظ حاصل ہوا ہے۔*

تاہم یہ بات قابلِ غور ہے کہ زبان کے اس خلافِ معمول اور غیر معروف استعمال کے پیچھے معروف، مستعمل اور مبنی برقواعد استعمال اور شعورِ عصر کی ایک تاریخ موجود ہوتی ہے؛ یہ عمل ہوا میں جب چاہا ، جیسا چاہا اور جہاں چاہا تیرچلا دینے سے تکمیل پزیر نہیں ہوتا :

اُس کی کھل نائیکی سے واقف ہو

اس نے اک عمر سنجے دتی کی

پنج سیری کا سامنا تھا مجھے

بات کاٹی تھی ایک رتی کی

 

موگلی آج اکیلا ہے بھرے جنگل میں

بھیڑیے مل چکے شیرُو سے کہ تبدیلی ہے

 

سُن سکھی شُول کی مسہری تھی

آج انگنے میں داج کس کا ہے

عقیل عباس کے پردہِ چشم پر ہر وقت پڑتی ہوئی روشنی اور باطن میں بھڑکتی ہوئی آگ نے ایک طرف ان کے تاریخی شعور کو تخلیقی سطح پر فعال و متحرک کِیا ہے اور دوسری طرف داستانوی طرز کے قدیم انسانی عمل و ردِ عمل سے شعر کی بین السطور فضا کی آرائش اور وسعت میں مدد دی ہے۔

زین پر خون تھا گھوڑے پہ کوئی تھا بھی نہیں

کھول کر آ گئے مہمان سَرا ، جو بھی تھا

 

صرف پوشاک ہاتھ آئی ہے

جو کہانی بنے بنا لیجے

 

حرم سراؤں کے خواجہ سرا لپکتے تھے

نگاہ و آہ کے اسباب دیکھنے کے لیے

 

اس جزیرے کی طرف سوچ سمجھ کر جانا

جو ترے موج میں آنے پہ نمودار ہوا

 

پھر ایک دن مجھے معبد کی سیڑھیوں پہ ملا

وہ اولین فرشتہ جو مارا جانا تھا

 

میانِ خیمہِ سالار قیدیوں کی کنیز

بتا رہی تھی سمے کس طرح بدلتا ہے

 

شاید کہیں وہ شام کی پریوں کا غول ہو

تیار ہو کے باغ میں جاتے ہیں بھاگنے

 

ہم بھی ہمارے عہد کے اصحابِ کہف ہیں

بس دیکھ لو کہ غار میں آئے ہیں جاگنے

 

محل کا ساتواں بونا بھی کل سے گم ہے کہیں

پری کو کون بتائے وہ خوش لباس نہیں

عقیل عباس اپنے اردگرد کی فضا پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ یہی انہیں کرنا بھی چاہیے۔ عقیل کی شعری فضا بالعموم دستیاب فکری وسائل میں رہتے ہوئے اردگرد دیہی زندگی کے صدیوں سے جاری معمولات ، سماجی رویوں، کہیں چلمنوں، غرفوں کن اکھیوں میں اور کہیں بے حجاب و بے لحاظ اشتہا کو سرِ عام ہوا دینے والی انسانی ہوس سے عبارت ہے۔

وجود کو بجلی اور پانی کی کاٹ عطا کرنے والی ایسی ہر ہوس کا ایک مہذب نام معاشقہ بھی رکھا جا سکتا ہے جو خود ہی فیصلہ کرتا ہے شب و روز کی تقویم میں تعلق کے پسِ پردہ اظہار کی ساعتیں کون سی ہیں اور سرِپردہ اظہار اور اس کی معنی خیزی کن پہروں سے مختص ہے:

مَل مَل کے اس نے جِلد کی دھجی اتار دی

کچھ سانولی کے کان میں پھونکا تھا کاگ نے

 

رستے میں چھچھلے پانیوں اور گھاس کی سڑاند

چنری اٹھا کے ناک پہ رکھ لی سہاگ نے

 

پنڈلیوں کہنیوں سرینوں کے

ہیں علاوہ بھی آپ کی اشیاء؟

ہر غلافِ بدن میں ہوتی ہیں

چند اک ان چھوئی ہوئی اشیاء

 

شیشم کی مست چھاؤں میں چرواہی سو گئی

پاؤں پہ اس کے ڈس لیا بدمست ناگ نے

 

سانپ شہوانی خواہشوں کے امیں

دوغلے پیڑ بھی گلہری بھی

آگ زرپوش چولیوں میں لگی

راکھ جھڑتی رہی سنہری بھی

 

کسی پری کو محبت پڑھانے جاتا ہوں

اب آ کے میرے بدن کے بھی خرچے نکلے ہیں

 

چڑیا اُچک کے لے گئی وحشت کے بیج کو

رکھا ہوا تھا سانپ نے منکا نکال کے

 

بولی حضور آپ کا کھانا لگا دیا

دیکھا تو جا کے لیٹ گئی آپ میز پر

اب اس کتاب کے کچھ مزید منتخب اشعار ملاحظہ ہوں:

یہ خط تھوڑی ہے میری خودکشی کا

یہ استعفا ہے اور اپنے تئیں ہے

کوئی تیرے پتے پر آ گیا ہے

مرا پوچھے تو کہہ دینا نہیں ہے

 

ایسی بارش میں بھوک لگتی ہے

کہنیاں میز پر ٹکا لیجے

 

کلاس روم میں اتنا سمے نہیں ہوتا

یہ سانحہ تمہیں گھر سے بنا کے لانا تھا

 

دریا نے بھی بھاگ بھری کی گاگر اتنی بھر دی ہے

اب گاگر کے ہونٹ بھگوتے جاتے ہیں پگڈنڈی کو

 

قرار دادِ محبت بھی پاس ہو نہ سکی

اور اس پہ شہر میں کوئی نفس اداس نہیں

 

کئی دنوں سے اسی مخمصے میں ہوں لڑکی

کہ جیسے میں نے وہ گندم کا پھل نہ کھایا ہو

 

حوض پر کوئی پری تھی نہ ہی سایا کوئی

ایک بونا لگا بیٹھا تھا فقط زینے سے

اُس عفیفہ کی سزا دو گنا کر دی جائے

اُس نے دو بال اُکھاڑے تھے مرے سینے سے

شاہین عباس( جون 2025)

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x