اُردو ادبافسانچہ

مکھوٹا/ زرقا فاطمہ

کل رات گئے نشے میں ڈولتے نقش کو میں اس کے گھر پہ چھوڑ تو آیا تھا ۔مگر اس کی نشے میں کہی باتیں اب تک میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہیں ۔
بات تو میں نے اتنی کی تھی کہ رات بہت ہو گی ہے ۔اب گھر جاؤ بھابھی پریشان ہو رہی ہوں گی ۔عورتوں کے دل نازک ہوتے ہیں ۔
اس نے قہقہہ لگایا۔نۓ سگریٹ میں پاوڈر بھرا ۔ایک گہرا کش لگایا اور دوبارہ ہنسا۔
"عورت کا دل چند دن کی محبت کر سکتا ہے جگر ”
"یا پھر چڑیا گھر، کہیں اماں، کہیں ابا،کہیں بھیا ،اور پھر ہر سمت ہر سو بچہ ”
"سالی ڈرامے باز ،
"بھگاتی پھرتی ہے ساری دنیا میں مرد کو ،کبھی لڑکی کے پیچھے، کبھی مال کے اور کبھی سگریٹ کے ۔”اس نے چٹکی بجا کر راکھ جھاڑی ۔
"نوٹنکی جھوٹی،ایک مکھوٹا اتارتی ہے دوسرا پہن لیتی ہے ”
"اچھا اٹھو گھر جاؤ”میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھانے کی کوشش کی
"نہیں جانا.”اس نے میرا ہاتھ جھٹک دیا
"پہلے کہو اسے جا کر اپنے بچے جیسی جگہ بناۓ اپنے دل میں میرے لیے ان سے کیوں محبت کے بدلے محبت نہیں کرتی بس ان بچوں کے سامنے ہی اصلی چہرہ ہوتا اس کا ،خالص محبت سے بھرا .”
",گھر جاؤ ناں”
” میں نے نہیں جانا دس باتیں سناتے گی عدالت لگائے گی ۔”
اس وقت تو میں اس کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹ گھساٹ کر اسے گھر چھوڑ آیا، سوچ رہا ہوں کسی وقت نشے سے باہر ملے گا تو سمجھاؤں گا۔بھائی میرے ، عورت کے دل میں مامتا صرف بچے کے لیے ہوتی ہے ۔شوہر کے لیے تو محبت ہوتی ہے بدلے کی طلب گار محبت۔

Author

1 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x