
مغرب میں ڈوبتے سورج کے ساتھ ساتھ میرے دل کی دھڑکنیں بھی ڈوب رہی تھیں۔ زندگی کے مختلف ادوار میں بہت سے مسائل کا سامنا رہا تھا مجھے، لیکن اس طرح بھی جینا دو بھر ہوگا یہ کبھی نہیں سوچا تھا۔
وسیم کے نماز پڑھ کر آنے تک میں بھی دعا مانگ کر فارغ ہو چکی تھی۔ آج مجھے دو ٹوک اپنی پریشانی کا حل مانگنا تھا ان سے۔ وہ فون پر کسی سے الجھ رہے تھے۔ کان سے فون ہٹایا تو میں نے کہا:
"وسیم، میری بات سنیں۔”
اسی لمحے پھر فون بج اٹھا۔ ان کا دبا دبا سا لہجہ مجھے یہ باور کروا گیا کہ دوسری طرف ان کے اور میرے دیور معیز کے مشترکہ ساجھے دار قریشی صاحب ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے کاروبار میں خاصی بڑی سرمایہ کاری کی تھی اور جب کوئی آپ کے کاروبار میں سرمایہ لگاتا ہے تو پھر اپنی منوانے کا حق بھی اسی کا ہوتا ہے۔
لائن کے کٹتے ہی میں نے پھر ان سے کہا:
"وسیم، میری بات سنیں۔”
وہ جھلا سے گئے:
"پہلے قریشی صاحب سنا رہے تھے اب تم سنا لو۔۔۔ اچھا، بولو کیا مسئلہ ہے۔”
انھیں شاید میری مسکینیت ٹپکاتی صورت پر ترس آگیا تھا۔
"وسیم، ایسا کب تک چلے گا؟ پورے گھر نے عائشہ کا جینا حرام کر دیا ہے۔ میری ہنستی بولتی بچی کے ہونٹوں کو چپ لگ گئی ہے۔ جس عمل کے لیے وہ لائقِ تحسین تھی اس پر سب نے اس کا مذاق بنا ڈالا۔ آخر آپ کسی سے کچھ کہتے کیوں نہیں؟”
وہ چند لمحے خاموشی سے میرا چہرہ تکتے رہے، پھر ٹھنڈی سانس بھر کر کہنے لگے:
"دیکھو صاعقہ! دین کے رستے پر جہاد کرنے والوں کو بہت کچھ جھیلنا پڑتا ہے۔ اپنی بیٹی کے اس عمل پر میں تو اس کے خلاف نہیں ہوں نا۔ میری خاموشی ہی اس کی سپورٹ ہے، لیکن میں اپنے خاندان سے الجھ پڑوں یہ کوئی دانش مندی نہیں۔ گھر کی فضا مکدر ہو جائے گی اور ہمارا دین بھی ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ چند دن کی بات ہے، آہستہ آہستہ سب لوگ اس کے اس فیصلے کو قبول کر لیں گے بلکہ قدر کریں گے، مجھے یقین ہے اس بات کا۔”
وہ تو یہ باتیں کرکے چلے گئے، پیچھے میں سوچتی رہی کہ نجانے یہ چند دنوں کا بن باس کیسے کٹے گا۔ عائشہ میری چودہ سالہ بیٹی ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام میں پلتے بڑھتے نجانے اس کے من میں کیا سمائی کہ حجاب پہننا شروع کر دیا۔ یقیناً اگر وہ جانتی ہوتی کہ جدیدیت اور آگے سے آگے بڑھتے جانے کا رجحان رکھنے والے خاندان میں ایسی باتیں دقیانوسی خیال کی جاتی ہیں تو وہ حجاب سے خود کو ڈھکنے سے پہلے سو بار ضرور سوچتی۔ مگر نوجوانی کا ہر عمل ہی شاید شدت پسندانہ ہوتا ہے۔ انسان گناہ کی طرف بڑھے یا پھر عبادت کی طرف، اس میں جوش و جذبے کا درجہ بہت اونچا ہوتا ہے۔
اسی لیے گھر والوں کے زہریلے رویوں کے باوجود اس کے قدم ایک دن بھی نہ ڈگمگائے۔ اس کے حجاب لینے پر صرف دوپٹہ لینے والی گھر کی خواتین نے برے منہ بنا کر حیرت کا اظہار کیا، لیکن سب سے زیادہ شور میرے دیور معیز نے مچایا:
"یہ کیا نئی ریت ڈالنے چلی ہے حجاب پہن کر؟ کیا یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ بس یہی پارسا ہے، گھر کی باقی بچیاں تو بےحیا ہیں؟”
اور پھر جس دن عائشہ نے حجاب کے ساتھ نقاب بھی لگا لیا تو وہ طوفانِ بدتمیزی اٹھا گھر میں کہ اللہ کی پناہ۔ وہ گھر میں جہاں سے گزرتی "بی بی نقاب پوش” کی صدائیں بلند ہونے لگتیں۔ اس کے ساتھ کی سنگی ساتھی اسے "حجابی حسینہ” کہہ کہہ کر چھیڑنے لگیں۔ پھوپھیوں نے تو باقاعدہ ڈانٹنا ڈپٹنا شروع کر دیا:
"یہ کیا ڈھاٹہ باندھنا شروع کر دیا ہے؟ اتارو اسے! بھلا ہمارے خاندان میں کبھی کسی نے منہ چھپایا ہے جو تم اتنی سی عمر میں ملانی بننے چلی ہو؟”
معیز نے تو کھل کر کہہ دیا:
"دیکھ لینا وسیم بھائی، اب کوئی اچھا خاندان اس کا رشتہ نہیں لائے گا۔”
یہ باتیں سن کر میں اندر ہی اندر کھولتی رہتی تھی۔ میری بیٹی نیکی کے رستے پر آگے بڑھ رہی تھی، خدانخواستہ کسی برے فعل میں تو مبتلا نہیں ہوئی تھی، تو پھر کیوں اسے اچھائی کو اپنانے کی آزادی نہیں دی جا رہی تھی؟ سراہنے کی بجائے اسے مذاق کیوں بنایا جا رہا تھا؟
مگر نجانے عائشہ کس مٹی کی بنی ہوئی تھی۔ اس پر کسی کی بات کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا تھا حالانکہ چودہ سال کی عمر ہوتی ہی کیا ہے؟ اس کم عمری میں وہ ایک بڑے کربناک تجربے سے گزر رہی تھی۔
میں اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ مسلسل ایک درد سہہ رہی ہے اور وہ درد کیسا تھا یہ میں نے اس دن جانا جس دن میں نے وہ درد خود اپنی جان پر سہا۔
رمضان کا پہلا عشرہ تھا جب میں نے ٹی وی پر ایک عالم کے منہ سے سنا:
"خاتونِ جنت جنت کے دروازے پر اس عورت سے بانہیں کھول کر ملیں گی جو دنیا میں باحیا، باکردار اور باپردہ زندگی گزار کر آئے گی۔”
بس یکایک ہی دل میں یہ امنگ جاگی کہ کاش میں بھی ان عورتوں میں شامل ہو جاؤں۔ اس روز پہلی بار معمول کا سودا سلف لانے کے لیے بڑی سی چادر اوڑھ کر چہرہ نقاب سے ڈھک کر گھر سے باہر نکلی۔
عجیب بات یہ تھی کہ گھر سے تو چوروں کی طرح نکلی کہ کوئی دیکھ نہ لے، لیکن گھر سے باہر ایک بےپایاں اعتماد کے ساتھ چلتی چلی گئی۔ میرے دل کو میرے رب نے دنیا سے لڑ جانے کی ہمت اور طاقت عطا فرما دی تھی۔ مجھے حیرت ہوتی تھی کہ حجاب کی مخالفت کا اصل مرکز میرا خاندان تھا لیکن خاندان سے باہر ہر شخص کی نگاہوں میں مجھے عزت و احترام ہی دکھائی دیا تھا۔
عید کے بعد اچانک ایک دن وسیم اور معیز نے باہر کھانے کا پروگرام بنا لیا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ کیسے میرے اور عائشہ کے ساتھ اپنی فیملی کو لے جا رہا ہے؟ تب وسیم نے بتایا کہ قریشی صاحب بھی اپنی فیملی کے ہمراہ آ رہے ہیں ڈنر پر۔ سارا راستہ معیز مجھے اور عائشہ کو دیکھ دیکھ کر برا منہ بناتا رہا۔
پھر جب ہم ریستوران میں جا بیٹھے تب بھی بولتا رہا:
"خدا کے واسطے بھابی، نا شرمندہ کرواؤ۔ پورے ہوٹل میں تم دونوں کے سوا کوئی کارٹون بن کر نہیں آئی۔”
اس کی بیوی اور بچیاں منہ جھکا کر ہنسنے لگیں۔ معیز کی باتیں سن کر ایک لمحے کو دل چاہا یہاں نقاب ہٹا دیتی ہوں، لیکن اگلے ہی پل عائشہ کے چہرے پر چٹان جیسی سختی دیکھ کر سوچا، آج اگر میں نے نقاب الٹ دیا تو پھر شاید زندگی بھر کبھی واپس نہ ڈال سکوں۔ سو ٹکڑے ہوتے دل کو سنبھالے بیٹھی رہی۔
تھوڑی دیر بعد ہی وسیم بولے:
"لو، قریشی صاحب بھی آگئے۔”
ساٹھ کے لگ بھگ قریشی صاحب کے پیچھے تین سر سے لے کر پیر تک ڈھکی خواتین بھی چلی آ رہی تھیں۔ وسیم اور معیز بہت گرمجوشی سے قریشی صاحب سے ملے، پھر معیز ان کی خواتین کی طرف دیکھ کر بولا:
"ماشاءاللہ! ماشاءاللہ! آپ کے گھرانے کی خواتین بھی پردہ دار ہیں۔ دیکھیے، الحمدللہ، ہماری بھابی، بھتیجی بھی۔۔۔”
ہماری طرف دیکھتے ہی اس کے باقی الفاظ اس کے منہ میں ہی دم توڑ گئے۔




