بیت المقدس حملے میں کم از کم پانچ اسرائیلی ہلاک/ اردو ورثہ

اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ پیر کو مشرقی مقبوضہ بیت المقدس ایک سڑک پر فائرنگ کے حملے میں چار افراد جان سے گئے اور کئی دیگر زخمی ہیں۔
اسرائیل کی قومی ایمرجنسی میڈیکل، ایمبولینس، بلڈ بینک اور ڈیزاسٹر ریلیف سروس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایمرجنسی اور طبی ٹیموں نے ’چار افراد کی موت کی تصدیق کی، جن میں ایک 50 سالہ شخص اور تقریباً 30 سال کی عمر کے تین مرد شامل ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ کئی دیگر افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جن میں سے پانچ کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
تاہم دا یروشلم پوسٹ نے اموات کی تعداد پانچ رپورٹ کی ہے۔
اخبار نے ایک رپورٹ میں لکھا کہ چار افراد جائے وقوعہ پر ہی جان سے چلے گئے تھے، جب کہ ایک زخمی نے شار زیڈک میڈیکل سینٹر میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔
ایسویسی ایٹڈ پریس کے مطابق حملہ آوروں نے شمالی بیت المقدس کے ایک مصروف چوراہے پر بس کے اندر فائرنگ کی۔ پیرا میڈکس کا کہنا ہے کہ 15 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے چھ کی حالت تشویشناک ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پولیس کے مطابق دو حملہ آوروں کو فائرنگ شروع ہونے کے فوراً بعد ’نیوٹرلائز‘ کر دیا گیا، تاہم ان کی حالت کے بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
یہ حملہ مقبوضہ بیت المقدس کے شمالی داخلی راستے پر ایک بڑے چوراہے پر ہوا، جو مشرقی بیت المقدس میں قائم یہودی بستیوں کی طرف جانے والی سڑک ہے۔
ایسویسی ایٹڈ پریس کے مطابق حملے کی ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا کہ صبح کے مصروف اوقات میں درجنوں افراد ایک بس سٹاپ سے بھاگ رہے تھے۔ موقع پر پہنچنے والے پیرا میڈکس کے مطابق علاقہ افراتفری کا شکار تھا، شیشے ٹوٹے ہوئے بکھرے تھے، اور کئی زخمی اور بے ہوش افراد سڑک اور فٹ پاتھ پر پڑے تھے۔
گذشتہ چند مہینوں میں اسرائیل میں وقفے وقفے سے حملے ہوئے ہیں، لیکن آخری ہلاکت خیز فائرنگ اکتوبر 2024 میں ہوئی تھی جب مغربی کنارے کے دو فلسطینیوں نے تل ابیب کے علاقے میں ایک بڑی شاہراہ اور لائٹ ریل سٹیشن پر فائرنگ کی تھی۔ اس واقعے میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔




