خدارا!…… دریاؤں کے راستے مت روکو/ اسد شہزاد

ڈاکٹر زاہد منیر ان اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں جو تاریخ پڑھاتے ہی نہیں تاریخ کے اندر سمو دیتے ہیں نہایت دلچسپ انسان ہونے کے ناطے ان کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ بہت آسان لفظوں میں اپنا پیغام دے جاتے ہیں دریا جب بپھرتے ہیں تو مجھے ڈاکٹر زاہد منیر کی یاد آجاتی ہے۔ وہ آج پھر یاد آئے کہ دریائے راوی گزشتہ دنوں بہت بپھرا ہوا تھا اور اپنی آمد کے نشان چھوڑتا رواں دواں ہے۔ دریا دریا ہوتا ہے جب یہ خالی ہوتا ہے تو اس کے اندر سے اٹھنے والی تپتے صحراؤں والی ہوک سنائی دیتی ہے اور کبھی کہیں پانی کے نشانات اس کی موجودگی کا احساس دلا جاتے ہیں کہ میں راوی ہوں اور رواں دواں رہنے کے لیے بہتا رہوں گا۔ کبھی میرا پیٹ پانی سے بھرا ہوتا ہے تو کبھی یہی پیٹ خالی رہتا ہے۔ راوی تو یہ بھی باور کراتا ہے کہ میرے رستے میں مت آنا میں کسی بھی وقت آسکتا ہوں کسی بھی وقت رستے میں آنے والوں کو بہا کر لے جاؤں گا میں نے کالم کے آغاز میں ڈاکٹر زاہد منیر کا ذکر کیا وہ دریائے راوی کے بارے میں بہت خوبصورت لکھتے ہیں۔
یہ ہر حال جہاز زندگی آ رہی ہے یونہی
ابد کے بھر میں پیدا یونہی نہاں ہے یونہی
راوی ایک دریا ہے اور لاہور ایک سمندر۔ دریا کبھی از خود رفتہ ہو کر اور کبھی دست غیر کے سبب اپنے راستے بھی بدل لیتے ہیں خشک بھی ہو جاتے ہیں لیکن لاہور ایک سمندر ہے اور سمندر کبھی خشک نہیں ہوتے۔ سو فیصد ڈاکٹر صاحب کی بات سے اتفاق کرتا ہوں مگر اس سمندر پر قابض حکمرانوں نے دریا ئے راوی کو بھی نہیں بخشا۔ یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ دریاؤں کے راستے کبھی نہیں روکے جا سکتے یہ بسا اوقات اس قدر بپھر جاتے ہیں کہ بستیاں اجاڑتے، فصلیں تباہ کرتے انسانوں کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جاتے ہیں۔ آج دریائے راوی میں بھرپور پانی ہے۔ اپنے جوبن پر ہے اور ناراض ناراض سا دکھائی دیتا ہے کہ اس کے راستوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے شہر لاہور کو اور بڑا بنانے والے شاید یہ بات کیوں فراموش کر جاتے ہیں کہ پوری دنیا میں جہاں دریا بہتے ہیں وہاں دور دور تک شہر آباد کرنے کا سوچتے بھی نہیں کہ ان کو معلوم ہے کہ دریا دریا ہوتے ہیں وہ اپنے اردگرد انسانوں کی بستیوں کو نہیں مانتے۔ آج ہر طرف ایک ہی شور اور آواز اٹھ رہی ہے کہ ایک ادارے نے دریا راوی پر نیا شہر بنانے کی جو حکمت عملی بنائی تھی اس وقت ان کو کیوں شٹ اپ کال نہیں دی گئی کہ آپ آنے والے کل کے لئے خطرات کو مول لے رہے ہیں۔ہم یہ بات بھول گئے کہ سیلاب کسی بھی وقت آسکتے ہیں انسان اپنی طاقت کے بل بوتے پر ہر چیز تو روک سکتا ہے مگر قدرتی آفات کو روکنا اس کے بس کی بات نہیں۔ راوی کے اندر بسائی جانے والی بستی جو آج سے ساٹھ سال پہلے تشکیل دی گئی تھی اس کی اجازت دیتے وقت ماحولیاتی مفادات کو نظر انداز کر کے ذاتی مفادات کو کیوں ترجیح دی گئی اگر لاہور کو وسعت دینا ہی تھی تو دریائے راوی کی زمین کا انتخاب کیوں ہوا۔ لاہور کے مشرق مغرب جنوب اور شمال میں بے پناہ اراضی پڑی ہے وہاں حکومتیں اپنے تعمیراتی خواب کیوں نہیں دیکھتی ہیں؟ آج لاہور شہر پرجو قدرتی آفت آئی وہ تو آنا تھی مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ ایک دوسرے کو نوازنے کی پالیسیوں نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ اس کی ذمہ دار سابق حکومت جو بانی کی تھی وہ ادارے بھی اس تباہی کے برابر کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے دریاؤں کی زمین کو بھی نہیں بخشا۔جس طرح دریائے نیل نے زمانے کے بے شمار نشیب و فراز دیکھے اسی طرح راوی نے بھی زمانے کی ان گنت گردشوں کا سامنا کیا۔ دریائے راوی نے اپنے اندر کئی زمانوں کو برداشت کیا ہوا ہے یوں تو اس دریا نے بہت صدمے برداشت کیے ہوئے ہیں مگر ایک صدمہ جسے آخری صدمہ بھی کہا جاتا ہے ستمبر 1960ء میں سندھ طاس معاہدے کے تحت ستلج،بیاس اور راوی بھارت کی تحویل میں چلے جانے کا ہے جس کے بعد آج تک راوی تشنہ ہی کی شکایت کر رہا ہے
دریا میں کوئی ناؤ دکھائی نہیں دیتی
ملاحوں کی آواز سنائی نہیں دیتی
اور آخری بات……
گزارشات تو بہت ہیں مگر سنے گا کوئی نہیں۔ یہ یقین ہے مگر ان باتوں کا جواب کون دے گا کہ نیا شہر تو آپ نے آباد کر لیا سو کر لیا…… وہاں کے مکینوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجیاں اس آس پرآپ کے حوالے کر دیں آپ نے جو خواب دکھائے وہ آپ کے خوابوں کے جھانسے میں آ گئے۔ اب جب دریا پانی موجوں میں آیا اور اس کا سینہ بپھرا اور اس نے جو تباہی مچائی آپ کا نیا لاہور تباہ کر کے رکھ دیا ان لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے والوں کا کب حساب کتاب ہو گا۔




