خبریں

انڈیا سے مزید پانی کی آمد، پنجاب میں سیلاب کی خطرناک سطح برقرار: حکام/ اردو ورثہ


پنجاب میں آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پراونشل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق جمعے کو بھی صوبے کے جنوبی اضلاع میں دریائے چناب اور ستلج میں پانی کی سطح بدستور خطرناک سطح پر برقرار ہے۔

حالیہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں سیلاب سے شدید نقصان ہوا ہے۔ آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق 26 جون سے اب تک ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے اموات کی تعداد 884 ہو گئی ہے، جن میں 239 بچے اور 135 خواتین شامل ہیں جبکہ لگ بھگ 1200 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملک بھر میں 9 ہزار سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا ہے جن میں دو ہزار سے زاہد گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ اسی طرح سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 21 لاکھ سے زائد افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں انڈیا کی طرف سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے چناب، راوی اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

پی ڈی ایم اے کے ترجمان چوہدری مظہر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’اس وقت انڈیا کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور شدید بارشوں کے باعث، دریائے چناب اور ستلج میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔

’دریائے چناب میں سدھنائی کے مقام کے پر پانچ لاکھ کیوسک تک پانی ہے، جس کی وجہ سے دریائے راوی کا پانی جو ایک ڈیرھ لاکھ کیوسک ہے، تریموں کے مقام پر اس میں شامل نہیں ہو پا رہا۔‘

چوہدری مظہر نے بتایا: ’دریائے چناب میں ہیڈ محمد والا اور شہر شاہ پل کے درمیان پانچ لاکھ کیوسک 394 فٹ تک پانی کی سطح برقرار ہے، جس کی وجہ سے اکبر بند پر اور اطراف کی دیگر آبادیوں میں ہائی الرٹ برقرار ہے۔ پیچھے دریائے چناب میں چنیوٹ کے مقام پر بھی پانی پانچ لاکھ کیوسک تک ہے۔‘

پی ڈی ایم اے ترجمان نے امید ظاہر کی کہ ’ہفتے کی رات چناب سے پانی پنجند کی طرف جائے گا، جس کی سطح چھ سے سات لاکھ کیوسک تک ہوگی۔ پنجند پر بھی چناب اور ستلج کا پانی پہنچنے پر آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہوگا جبکہ دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ کے مقام پر بھی اونچے درجے کے سیلاب کی صورت حال برقرار ہے۔‘

حکام کے مطابق دریائے چناب میں متعدد مقامات پر بند توڑنے کے باوجود پانی سطح اتنی کم نہیں ہوئی، جتنی متوقع تھی، اس لیے ملتان اور مظفر گڑھ کی دریا کے قریب واقع آبادیوں کو اب بھی شدید خطرہ ہے، یہی وجہ ہے کہ انتظامیہ نے یہ آبادیاں خالی کروا لی ہیں۔

پنجاب میں مون سون بارشوں کے 10 ویں سپیل کا الرٹ

پی ڈی ایم اے کے مطابق 6 سے 9 ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیش گوئی ہے۔ راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گوجرانولہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشیں متوقع ہیں۔

ترجمان پی ڈی ایم اے نے 7 سے 9 ستمبر کے دوران ڈیرہ غازی خان میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

سندھ میں الرٹ

دریائے چناب، ستلج اور راوی میں بدستور اونچے درجے کا سیلاب ہے اور اس وقت سیلابی ریلے جنوبی پنجاب سے گزر رہے ہیں، جو جمعے کو پنجند کے مقام پر دریائے سندھ میں جا ملیں گے۔

این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ 7 ستمبر کو گدو کے مقام پر دریائے سندھ میں اونچے یا انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق کم دباؤ کا ایک سسٹم اس وقت انڈین ریاست مدھیہ پردیش پر موجود ہے جو مغرب شمال مغرب کی جانب حرکت کرتے ہوئے 6 ستمبر کو راجستھان اور اس سے ملحقہ سندھ کے علاقوں تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ’اس موسمیاتی نظام کے زیرِ اثر 6 ستمبر سے (پاکستان کے صوبہ) سندھ اور مشرقی پنجاب میں مضبوط مون سون ہوائیں داخل ہونے کا امکان ہے۔‘

محکمہ موسمیات کے مطابق 6 ستمبر کی سے 9 ستمبر تک تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، سانگھڑ، خیرپور، سکھر، لاڑکانہ اور جیکب آباد سمیت کئی اضلاع میں گرج چمک تیز ہواؤں اور آندھی کے ساتھ تیز بارش  متوقع ہے۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x