سیلاب میں پولیس کی آزمائش/ یونس باٹھ

خطے میں شدید سیلاب کے رد عمل میں، پنجاب پولیس فورس کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے جو صوبے بھر میں ایک جامع اور بڑے پیمانے پر ریسکیو اور ریلیف آپریشن منظم کر رہی ہے۔ یہ اقدام وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے براہ راست احکامات اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی اسٹریٹجیک نگرانی میں کیا جا رہا ہے۔ جاری بحران کے پیمانے نے ایک غیر معمولی رد عمل کی ضرورت کو جنم دیا ہے۔ پنجاب پولیس کے ترجمان کے سرکاری اپ ڈیٹس کے مطابق، فورس نے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع سے 3 لاکھ 28 ہزار 393 افراد کو محفوظ طریقے سے نکالنے کی ایک تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ ان اعداد و شمار کی تفصیلی تقسیم آپریشن کے انسانی پہلو کو اجاگر کرتی ہے، 1 لاکھ 28 ہزار 702 مرد، 96 ہزار 791 خواتین اور 1 لاکھ 3 ہزار بچوں کو سیلاب کے خطرناک سیلاب سے کامیابی سے بچایا گیا ہے۔ شہریوں کے اقتصادی اثاثوں اور روزگار کو محفوظ بنانے کی ایک اہم کوشش میں، پولیس نے کروڑوں روپے مالیت کے 4 لاکھ 88 ہزار سے زائد مویشیوں کو بھی نکالا اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔ ملتان پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے جہاں شہر کے متاثرہ علاقوں سے 4,000 سے زائد شہریوں اور 900 جانوروں کو بچایا گیا ہے۔ اس عظیم محنت کو وسائل کی ایک بڑی تعیناتی کی حمایت حاصل ہے، جس میں 15,000 سے زائد افسران اور اہلکار، 700 سے زائد گاڑیاں، اور 40 کشتیاں شامل ہیں جو چوبیس گھنٹے آپریشن میں فعال طور پر حصہ لے رہے ہیں، جو اس بحرانی وقت میں عوامی حفاظت کے لیے پنجاب پولیس کی مضبوط عزم کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ مسلسل خطرے کے پیش نظر، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے تمام یونٹوں کے لیے، خاص طور پر جنوبی پنجاب میں، ہائی الرٹ رہنے کے سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ آپریشن کے دوران جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے تھرمل امیجنگ ڈرون کیمرے ان شہریوں اور مویشیوں کا پتہ لگانے اور انہیں ڈھونڈنے کے لیے تعینات کیے جا رہے ہیں جو ناقابل رسائی سیلاب زدہ علاقوں میں پھنس گئے ہیں، اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے۔ ڈاکٹر عثمان انور نے فرنٹ لائن پر تعینات پولیس افسران اور اہلکاروں کی طرف سے دکھائی گئی غیر معمولی ہمت اور بہادری کو سراہا جو اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر عوام کے جان و مال کو بچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ریسکیو، ریلیف، اور بحالی کی جاری کوششوں میں "شاندار خدمات” کے لیے پوری فورس کی تعریف کی۔ فوری ریسکیو سے آگے، پولیس تخلیص کے بعد کی سیکورٹی اور دیکھ بھال کو یقینی بنا رہی ہے۔ جرائم کو روکنے کے لیے تخلیص شدہ علاقوں میں سیکورٹی، نگرانی اور گشت میں نمایاں اضافہ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔آئی جی پولیس پنجاب کی جانب سے کی جانے والے یہ اقدامات مثبت اور خوش آئند ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف بروقت ہے بلکہ پولیس کے بارے میں عوامی تاثر کو مثبت بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں قدرتی آفات کے وقت انتظامی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔سیلاب کے دوران پولیس کا سب سے بڑا امتحان محض پانی میں پھنسے لوگوں کو نکالنے یا امدادی اداروں کے ساتھ تال میل کرنے تک محدود نہیں بلکہ متاثرہ علاقوں کے خالی گھروں اور نقل مکانی کرنے والے شہریوں کے سامان کی حفاظت بھی اس کے دائرہ کار میں آتی ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف جاتے ہیں تو ان کے خالی مکان چوروں کے نشانے پر آ جاتے ہیں۔ اس موقع پر اگر پولیس گشت اور نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنائے تو عوامی اعتماد میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔سیلاب جیسے کڑے وقت میں پولیس کو مہربان اور مددگار فورس کے طور پر سامنے لانا وقت کی ضرورت ہے۔ اگر یہ فورس انسانی خدمت کے ساتھ ساتھ شہریوں کے اموال کی حفاظت میں بھی کامیاب ہو جائے تو یہ عمل نہ صرف پولیس کی ساکھ کو بہتر کرے گا بلکہ عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کے نئے دروازے کھول دے گا۔




