نظام کو ہائبرڈ کہنے پر وزرا کی ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری/ وقار عباسی

ایوان زیریں میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر بحث کے ساتھ ساتھ حکومتی وزراء کی ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری بھی جاری ہے۔ خواجہ آصف کی جانب سے بیوروکریسی کو برا بھلا اور نظام کو ہائبرڈ کہنے پر حنیف عباسی سیخ پا ہوگئے۔ وزیر دفاع کو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا مشورہ دے ڈالا۔ منگل کے روز ایوان زیریں کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی کی جانب سے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیانات پر لفظی گولہ باری کی گئی۔ حنیف عباسی نے کہا ہمیں بڑا شوق چڑھا ہوا ہے ہم بیوروکریسی کو گالم گلوچ کریں، کبھی نظام کو ہائبرڈ کہتے ہیں۔ سارا کچھ یہیں بیان کرنا ہے تو حکومت سے اٹھ کر اپوزیشن میں چلے جائیں۔ انہوں نے کہا یہ باتیں حکومتی بینچوں پر بیٹھ کر کرنے والی نہیں۔ یہاں ہر کسی کو وائرل ہونے کا شوق ہے۔ آپ اپنے پہ ہی الزام تراشی شروع کردیتے ہیں۔ آج بھی آپ اسی نظام کا حصہ ہیں۔ ہم نے ایسے سیاست دان دیکھے ذرا انگلی اٹھی انہوں نے استعفیٰ پیش کردیا۔ اس وقت پاکستان کا دفاع اور اکانومی مضبوط ہاتھوں میں ہیں۔ لوگوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہئے۔ علاوہ ازیں اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جیل میں رکھے جانے والے ناروا سلوک پر سخت احتجاج کیا، نعرے بازی کی اور ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔ سپیکر اسمبلی نے اسد قیصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر بات ہورہی ہے، جن اراکین کے حلقے متاثر ہوئے ہیں انہوں نے بات کرنی ہے، پی ٹی آئی اراکین کے حلقے بھی متاثر ہوئے انہیں بات کرنے دیں۔ تاہم اپوزیشن نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ سپیکر نے ایوان کی کارروائی جمعہ 5 ستمبر تک ملتوی کردی۔




