اُردو ادباُردو شاعریغزل

آہ ۔۔۔۔سیل آب / شاعر : شہزاد نئیر

آہ ۔۔۔ سیل آب

شہزاد نئیر 

پانی پانی کے اِک شور میں کتنی چیخیں ڈوب گئیں
پہلے کچھ آوازیں ابھریں آخر سانسیں ڈوب گئیں

 

کون سِدھائے بپھرا پانی، کون اُسارے مٹّی کو
دریاؤں پر پشتے باندھنے والی بانہیں ڈوب گئیں

 

پانی کا عفریت اچھل کر شہ رگ تک آ پہنچا تھا
بچے جس پر بیٹھے تھے اس پیڑ کی شاخیں ڈوب گئیں

 

پتھر کوٹنے والے ہاتھوں میں بچوں کے لاشے تھے
شہر کو جانے والی ساری ٹوٹی سڑکیں ڈوب گئیں

بربادی پر گریہ کرنے کی مہلت ہی نہیں ملی
آنسو بہنے سے پہلے ہی سب کی آنکھیں ڈوب گئیں

 

بستی میں کہرام مچا تھا، آدم روزی مانگتا تھا
"رازق، رازق” سنتے سنتے سب کی نبضیں ڈوب گئیں

 

نیّر جگ کی اونچ نیچ نے پانی کا رخ موڑ دیا
تیری مل تو وہیں کھڑی ھے،میری فصلیں ڈوب گئیں

Author

Related Articles

Back to top button