
- چڑیوں کے اس گھونسلے پر ایک دِن اچانک ہی میری نظر پڑی تھی۔ہمارے کشادہ گھر میں مرکزی دروازے سے چند گز کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا خوبصورت لان شروع ہوتا تھا جو گھر کے اندرونی دروازے سے تھوڑا پہلے تک پھیلا ہوا تھا۔ باقاعدگی سے ہموار کی جانے والی نرم و ملائم گھاس کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا جیسے زمین نے سانس لے کر سبزہ اگل دیا ہو۔ ایک سبز مخملی قالین بچھا دکھائی دیتا تھا۔ لان کے تین اطراف مختلف پھولوں سے سجی باڑ آراستہ تھی جن کے پھول موسمِ بہار میں صبح کی شبنم سے بھیگ کر ہوا کو معطر کر دیتے تھے۔ گلاب کے ان پودوں کے ساتھ ساتھ قطار در قطار گیندے کے زرد و نارنجی پھول بھی مست ہواوں سے اٹکیھلیاں کرتے اور یوں محسوس ہوتا جیسے طلوعِ آفتاب کے وقت روشنی کی ہر کرن کا اپنے انداز سے استقبال کر رہے ہوں۔ چنبیلی ، چمپا اور موتیے کے پودوں میں جابجا کھلے پھول الگ سے اپنی چھب دکھاتے تھے۔ گوشہ گوشہ پر رنگ رنگ کے پھول اپنی رعنائی دکھا رہے تھے گویا کسی مصور نے ہریالی کے کینوس پر رنگ بھر دیئے ہوں۔لان کے چوتھے کنارے پر تنہا ایستادہ نیم کا درخت گویا ان تمام چھوٹے پودوں کی نگہبانی پر مامور تھا۔ درخت پر صبح شام چڑیوں، طوطوں اور دیگر چھوٹے پرندوں کی آوازوں کا جلترنگ بجتا رہتا۔
جاتی ہوئی گرمیوں کی اُس شام دفتر سے آنے کے بعد میں نے غروبِ آفتاب سے تھوڑا پہلے شاور لے کر تازہ ہوا کا جھونکا لینے کے لیے لان کی طرف کھلنے والی کھڑکی کی سلائیڈایک طرف ہٹائی تو نیم کے درخت کی کھڑکی کے قریب آتی ایک شاخ پر ایک چھوٹا سا گھونسلہ بنا دیکھا جس کے آس پاس ہی چڑیاں پھدک رہی تھیں۔ میرا کمرہ گھر کی پہلی منزل پر تھا جبکہ گراونڈ فلور پر ایک کمرے میں میرے عمر رسیدہ والدین، لاونج کے دوسری طرف بڑے بھائی اور بھابھی جبکہ اس سے ملحقہ کمر ے میں ان کی چار اور آٹھ برس کی دو بیٹیوں کا کمرہ تھا۔ مجھ سے چھوٹے بھائی کی دو سال قبل شادی ہوئی تھی اور اُس کا چھ ماہ کا بیٹا تھا۔وہ شادی کے فوراً بعد اپنی بیوی کو لے کر ایک الگ گھر میں منتقل ہو گیا تھا جو ہمارے گھر سے چند کلومیڑ کی مسافت پر تھا۔میں پچھلے چار سال سے ایک معروف سافٹ وئیر ہاوس کے پروگرامنگ ڈیپارٹمنٹ میں بطور کمپیوٹر پروگرامر نوکری کر رہی تھی۔ میرا نکاح ایک سال قبل ہی لندن میں مقیم میرے ایک کزن سے ہوا تھا جو وہاں پولیس کے محکمہ میں ایک اعلی انتظامی عہدے پر فائز تھے۔ میرا میاں کے ساتھ لندن جانے کا عمل اب اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکا تھا۔ والد وزارتِ خزانہ کے ایک اہم عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تھے جبکہ والدہ بھی درس و تدریس سے وابستہ رہنے کے بعد اب اپنی پیشہ ورانہ خدمات سے سبکدوش ہو چکی تھیں۔ والدین نے ہماری تعلیم اور شاہانہ طرز زندگی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ رئٹائرمنٹ کے بعد شہر کے پوش علاقہ میں شاندارگھر کی تعمیر اور بڑے بھائی کے امپورٹ ایکسپورٹ کے بزنس میں بہت سا پیسہ لگا دیا۔ گھر میں کھانا پکانے کے لیے خانساماں، دیگر کاموں کے لیے ماسی، لان کے لیے مالی، رکھوالی کے لیے چوکیدار اور والدین کے کہیں آنے جانے کے لیے ڈرائیور بھی موجود تھے۔
گھونسلے کے پاس ہی دو چڑیوں کو پھدکتے دیکھ کر میں کچھ دیر کے لیے اُن میں محو ہو گئی۔ اُن کی چیں چیں درخت پر موجود دوسری چڑیوں کی آوازوں سے مل کر ایک سہانا سماں پیدا کر رہی تھی۔ اُس دن مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ پرندوں کی چہچہاہٹ میں کس قدر سکون ملفوف ہوتا ہے جس کو سُن کر دماغ میں ایسی ترواٹ در آتی ہے جیسے بے پناہ تھکن کے بعد منزل پر پہنچ کر ایک بھرپور نیند لینے سے جسم میں تازگی عود کرآ جاتی ہے۔ اُس دِن کے بعد تو یہ میرا معمول بن گیا کہ دفتر سے آکر کچھ دیر والدین، بھابھی اور بھتیجیوں سے گپ شپ کرکے اپنا چائے کامگ لے کر کمرے میں کھڑکی سے لگ کر کھڑی ہو جاتی۔ بھائی تو تاخیر سے گھر آتے تھے تو ان سے کبھی کبھار رات کے کھانے پر ہی ملاقات ہو پاتی تھی۔ شام کے وقت نیم کے درخت پر چڑیوں کی آمد و رفت بڑھ جاتی۔ پورے لان میں یہ درخت ایسے ساز بکھیرتا کہ رواں رواں تازہ دم ہو جاتا۔ بارش کے دنوں میں اس ساز کی جگہ پانی کی برستی بوندوں کی موسیقت لے لیتی اور میں فطرت کے بدلتے رنگوں سے محظوظ ہوتی اپنے اندر توانائی کے پکے راگ جذب کرتی رہتی۔
ایک شام میں نے دیکھا کہ خلافِ معمول چڑیا بڑی تمکنت سے گھونسلے میں کسی مہارانی کی طرح فروکش ہے اور چرونٹا چہک چہک کر اس کے گرد چکر کاٹ رہا ہے۔ چڑیا گویا فخر کے ساتھ گردن اکڑائے چرونٹے کو اپنے اردگرد منڈلاتے دیکھ رہی ہے۔ میں گھونسلے کے قریب تھی مگر آدھی پردے کی اوٹ میں تھی مبادا چڑیاں میری موجودگی سے بدک جائیں اور میں اس حسین نظارے سے محروم ہو جاوں۔ اچانک مجھے محسوس ہوا کہ چڑیا جیسے کسی چیز پر بیٹھی ہے، غور کیا تو چڑیا کے مخملی پروں کے نیچے دو ہلکے سبزی مائل چھوٹے چھوٹے انڈے دکھائی دیئے۔ میرا دل کسی انجانی خوشی سے لبریز ہو گیا اور مجھے چڑیا کے غرور اور چرونٹے کی طرف سے اُس کی ناز برداریوں کی سمجھ آ گئی۔
اُس دِن کے بعد میری چڑیوں میں دلچسپی اور بھی بڑھ گئی۔ خوشی کے مارے میں نے اپنی دونوں بھتیجیوں کو بھی اس راز میں شریک کرنا چاہا مگر وہ اس منظر سے جلد ہی اکتا گئیں اور پھر سے اپنے اپنے موبائل لے کر بیٹھ گئیں۔ آنے والے دنوں میں میں نے دیکھا اُن انڈوں کی جگہ بال و پر سے بے نیاز دو ننھے منھے وجود اس گھونسلے میں لجلجا رہے ہیں جن کی روز خوب خاطر داری کی جاتی۔ یہ بات بھی میرے مشاہدے میں آئی کہ چڑیا یا چرونٹے میں سے کوئی ایک لازمی گھونسلے میں ان بچوں کے ساتھ موجود ہوتا جبکہ دوسرا خوراک کے بندوبست کے لیے باہر نکل جاتا اور وہ دانہ دانہ کر کے بچوں کے حلق میں ڈالتے جاتے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اُن کے بال و پَر نکل آئے اور وہ بھی ڈال ڈال پھدکنے لگے۔ کچھ ہی دِنوں میں چھوٹی موٹی اڑان بھی بھرنے لگے۔
اچانک بڑے بھائی کے سر میں جائیداد کے بٹوارے کا سودا سما گیا کہ اُن کو اپنے امپورٹ ایکسپورٹ کے کاروبار کو مزید توسیع دینے کے لیے بڑا سرمایہ درکار تھا اور وہ والدین کو اُن کی گنجائش کے مطابق چھوٹا سا گھر لے کر اس میں منتقل کرنے کے خواہاں تھے۔ چھوٹا بھائی پہلے ہی امریکہ سیٹل ہونے کا عندیہ دے چکا تھا اور میں نے بھی لندن چلے جانا تھا ایسے میں والدین کی دیکھ بھال نوکروں کے حوالے نہیں کی جا سکتی مگر بڑے بھیا یہ بات سمجھنے کے لیے قطعاً تیار نہ تھے۔ گھر میں بدمزگی بڑھنے لگی۔ والدین کو چُپ لگ گئی۔ ایک دِن بھابھی نے یہاں تک کہہ دیا کہ اُن کو اپنی بچیوں کا مستقبل بنانا ہے تو میں اپنے ماں باپ کو لندن ساتھ لے جاوں۔ میں اس بات کا کوئی فوری ردِعمل نہ دے پائی اور ڈبڈبائی آنکھوں اور تھکے قدموں کے ساتھ اپنے کمرے میں آ گئی۔
میں بلا ارادہ ہی کھڑکی کے پاس آ کھڑی ہوئی۔ رات کے اُس پہر کمرے کے باہر لگی لائٹ کے تعاقب میں دیکھا کہ چھوٹے سے گھلونسلے کے چاروں مکین ایک دوسرے کا بوجھ سہار کر اونگھ رہے تھے۔
*عارفین یوسف*
١٥ اگست ٢٠٢٥




