اُردو ادباُردو شاعریغزل

غزل: مرے مسیحا کی وجہ شہرت ستمگری ہے / شاعرہ : رخشندہ نوید

غزل

رخشندہ نوید

اسی لیے تو سمجھ رہی ہوں اُسے خُدا بھی
قریب رہتا بھی ہے مرے مجھ سے ہے جُدا بھی

مرے مسیحا کی وجہ شہرت ستمگری ہے
وہ زخم کے ساتھ ساتھ دیتا رہا دوا بھی

وہ جس کو کہتے ہیں روح کب کی نکل چکی ہے
یہ جسم کس کام کا ہے آخر اِسے اٹھا بھی

کبھی کبھی آنکھ نعمتِ خواب مانگتی ہے
کبھی کبھی ہو تو اچھا لگتا ہے رتجگا بھی

دیے تو پلکوں پہ ورنہ رکھے رہے کئی دن
قبولیت کی گھڑی میں پوری ہوئی دُعا بھی

اگر یہ پہلی ہے فتح رخشندہؔ ہارنا مت
اگر یہ پتھر ہے آخری تو اسے ہٹا بھی

Author

Related Articles

Back to top button