
دیپ جلتے رہے
صنف : آپ بیتی
مصنفہ : عفت نوید
تبصرہ: کنول بہزاد
عفت نوید کی اس آپ بیتی کا شہرہ مجھ تک فیس بُک کے دوستوں کے توسط سے پہنچا۔۔۔
جب پتہ کیا کہ کیسے ملے گی تو معلوم ہوا کراچی سے شائع ہوئی ہے اور وہیں دستیاب ہے ۔۔۔اتفاق سے انہی دنوں احسن بودلہ شاید اردو کانفرنس کے سلسلے میں کراچی میں تھے۔۔۔ اُنہیں پیغام بھیجا کہ ممکن ہو تو لیتے آئیں ۔۔۔بس یوں احسن کی مہربانی سے یہ کتاب مجھ تک پہنچی۔۔۔مگر یہ سال ہم پہ ذرا کم ہی مہرباں رہا سو کتاب یکسوئی سے نہ پڑھ پائی ۔۔۔قسطوں میں پڑھی۔۔۔مگر جوں جوں پڑھتی گئی عفت کی نثر اور مضبوط شخصیت کی قائل ہوتی گئی ۔۔۔سچ تو یہ ہے کہ ان مشکل دنوں میں مجھے عفت کے جلائے گئے دیپ روشنی اور تقویت فراہم کرتے رہے ۔۔۔کیا کیا مشکل ہے جو عفت نے نہیں جھیلی۔۔۔کون کون سے محاذ پر وہ سینہ سپر نہ رہیں ۔۔۔یہ کسی عام عورت کا کام نہیں ۔۔۔شوہر کی ذہنی صحت ، نفسیاتی الجھنوں اور سادگی نے انہیں کیسے کیسے ذہنی اور معاشی پریشانیوں میں مبتلا کیا مگر وہ ڈٹی رہیں ۔۔۔کبھی کبھی ہمت ہارنے لگیں تو ایک ماں کی نگاہوں کی التجا یاد آ گئی ۔۔۔ایک ماں ۔۔۔جو عفت کی ساس تھیں ۔۔۔ہمارے معاشرے کا متنازعہ ترین کردار ۔۔۔مگر عفت کے دل میں ہمیشہ ان کا احترام جاگزیں رہا حتٰی کہ انہوں نے یہ کتاب بھی اپنی اور احمد نوید کی ماں کے نام انتساب کی ہے۔۔۔آج عفت بھی ایک ماں ہیں۔۔۔یہ ایک ماں کا دوسری ماں کو شاندار خراج تحسین ہے۔۔۔
شادی شدہ زندگی میں عفت نوید کے لیے کانٹے ہی کانٹے تھے مگر گھر میں بچوں کی چہکاروں نے انہیں ساز زندگی کے سروں سے آشنا کر دیا ۔۔۔اپنے بچوں کے جیون کو صحیح معنوں میں اپنے لہو سے سینچا اور آس کے دیپ بجھنے نہ دیے ۔۔۔
عفت کی نثر بڑی ، رواں سادہ ہے ۔۔۔اس میں عجب بے ساختگی ہے مگر اس نثر میں بظاہر بر محل اشعار کا استعمال، مجھے تو سپیڈ بریکرز کی طرح لگا۔۔۔کیونکہ میں روانی سے بس عفت کی کہانی پڑھنا چاہتی تھی۔۔۔ سو میں بھی ان اشعار پر سے "اڈاری ” مار کر دوبارہ نثر سے ہی رشتہ جوڑ لیتی تھی ۔۔۔یہ بھی شاید عفت کا اپنے شاعر شوہر کے لیے محبت کا ایک انداز ہے۔۔۔اشعار بلاشبہ اچھے تھے مگر میں نے بعد میں انہیں الگ سے پڑھا ۔۔۔
ان کی اس دلسوز داستاں نے جہاں رلایا ۔۔۔وہاں بہت سے مقامات پر مسکراہٹ بھی لبوں پر کھیلتی رہی ۔۔۔عفت جی کی بذلہ سنجی اور حس مزاح خوب ہے ۔۔۔خود پر ، حالات کی ستم ظریفی پر مسکرانے کا ہنر جانتی ہیں ۔۔۔
جب کراچی میں انہیں بالآخر اپنا فلیٹ رہنے کو ملا تو میری خوشی بھی دیدنی تھی کہ کرائے کے گھروں کے دکھ ہم بھی بخوبی جانتے ہیں ۔۔۔مگر پھر معاشی حالات کی بہتری کے لیے اسلام آباد کوچ کر گئیں ۔۔۔بات نہ بنی تو پھر کراچی جا پہنچیں ۔۔۔یہ داستان حیات ان سب کے لیے مشعل راہ ہے ۔۔۔جو زندگی کی گوناگوں مشکلات سے نبرد آزما ہیں ۔۔۔
آج عفت نوید کو وہ منزل مل گئی ہے جس کی وہ خواہاں تھیں ۔۔۔بچے سیٹل ہو گئے ہیں ۔۔۔ میاں بیوی کی محبت قائم دائم ہے ۔۔۔زندگی میں ٹھہراؤ آ چکاہے۔۔۔پچھلے دنوں انہوں نے بہو، بیٹے اور پوتے کے ساتھ تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی تو دل مسرور ہوا۔۔۔مجھے اس حوالے سے احمد نوید صاحب نے بھی متاثر کیا ۔۔۔عفت جی جب یہ داستان حیات لکھ رہی تھیں تو احمد نوید صاحب بھی ناصرف پڑھ رہے تھے بلکہ سراہتے بھی تھے حالانکہ ان کے حوالے سے کافی تلخ باتیں اس میں شامل تھیں ۔۔۔عفت جی کو اس بات کا احساس تھا ۔۔۔ایک دن شوہر سے سوال کیا کہ آپ کو برا تو لگا ہو گا۔۔۔انہوں نے جواباً کہا…
” ہاں ۔۔۔مگر اتنا برا نہیں ۔۔۔جتنا تم نے سہا۔۔۔”
بس ۔۔۔اور کیا کہوں اس کتاب کے بارے میں ۔۔۔میرے خیال میں تو ہم سب کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے کہ اندھیرے یا تاریک لمحے تو سب کے جیون میں ہوتے ہیں ۔۔۔مگر یوں دیپ تو کوئی کوئی جلاتاہے ۔۔۔





کنول بہزاد ، اس دلکش تبصرے کا بے حد شکریہ