افسانہ : فتور / سیدہ عطرت بتول نقوی

اس خاتون کو شاید خود بھی اندازہ نہ ہوگا کہ اس کے کہے گئے جملے نے دلہن پر کیا اثر کیا ، حالانکہ اس نے سرگوشی نما انداز میں بالکل پاس کھڑی اپنی کزن سے کہا تھا لیکن دلہن نے سن لیا بلکہ دل پر لے لیا شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ اس بارے میں پہلے ہی کچھ حساس تھی ، اصل میں زمل کوئی ایسی بری نہ تھی بلکہ اچھی خاصی قبول صورت تھی اور دلہن بن کر تو اس پر کافی روپ آ یا تھا شادی کا جوڑا اس پر جچ رہا تھا لیکن اب کیا کیا جائے کہ اس کے پہلو میں کھڑا شہر یار کسی یونانی شہزادے کی طرح نظر آ رہا تھا باقی لوگوں نے تو شاید اپنی رائے محفوظ رکھی تھی یا دور جا کر تبصرہ کیا ہوگا لیکن سٹیج کے پیچھے کھڑی خاتون کی سرگوشی کہ دولہا کے سامنے دولہن کی شخصیت بالکل دب گئی ہے زمل نے اچھی طرح سے سن لی۔
یہ شادی یوں ہوئی تھی کہ زمل کے اور شہر یار کے والد آپس میں گہرے دوست تھے شہر یار کے والد کو اپنا یہ سلجھا ہوا دوست اور اس کی فیملی ہمیشہ سے پسند تھی۔ خاندانی ، وضع دار اور رکھ رکھاؤ والے لوگ تھے ۔ ان کی اکلوتی بیٹی زمل تعلیم یافتہ اور سلیقہ مند تھی ، شہر یار کے والد نے بیٹے کو ذہنی طور پر تیار کرنا شروع کر دیا تھا کہ وہ اس کا رشتہ اپنے دوست کے گھر کریں گے اور پھر شہر یار کی بینک میں جاب اور مینیجر کے عہدے کے بعد انھوں نے باقاعدہ طور پر رشتہ مانگ لیا ، ان کے دوست کو بھلا کیا اعتراض تھا یوں چٹ منگنی اور پٹ بیاہ ہوگیا ۔ بظاہر سب ٹھیک تھا دونوں فیملیز خوش تھیں شادی کے بعد روٹین لائف شروع ہو چکی تھی لیکن زمل کو کسی پہلو قرار نہ تھا وہ اپنی یہ کیفیت کسی کو بتا بھی نہیں سکتی تھی ۔اسے ایسے لگتا تھا وہ شہر یار کے مقابلے میں بہت کمتر ہے جب بھی وہ کہیں اکھٹے جاتے ایسے لگتا سب کی نظریں اس پر تمسخرانہ انداز میں گڑی ہیں اور اسے ایسے لگتا ک کوئی شہر یار کو اس سے چھین لے گا ، پہلے پہل تو وہ اس احساس کو چھپاتی رہی آ ہستہ آ ہستہ سب نے یہ بات محسوس کرلی کیونکہ اگر اس کی کوئی دوست ، رشتہ دار ، کزن شہر یار سے دو منٹ بھی بات کر لیتی تو وہ بہت ناگواری ظاہر کرتی ، اس کی وہ سہلیاں جن سے شادی سے پہلے ہر وقت کا اٹھنا بیٹھنا تھا اب اس سے دور ہو گئیں تھیں کیونکہ وہ اگر اس سے ملنے آ تیں تو ان پر طنز کرتی کہ مجھ سے ملنے کا تو بہانہ تھا اصل میں دیدار تو کسی اور کا کرنا تھا ، شہر یار انتہائی زمہ داری والی جاب سے تھکا ہارا آ تا تو اس سے طرح طرح کے سوالات کرتی وہ زچ ہوجاتا ، روازنہ اس سے سوال ہوتا کہ اتنا تیار ہو کر جانے کی کیا ضرورت ہے ، جب تک وہ گھر آ نہ جاتا وہ بے چین رہتی تھوڑا لیٹ ہو جاتا تو اسے بہت وضاحتیں دینی پڑتیں ، لیکن وہ زمل کی والہانہ محبت اور خدمت گزاری سے بہت خوش تھا وہ اسے اپنی وفاداری کا یقین دلاتا اسے یقین دلاتا کہ تم بہت خوبصورت ہو لیکن زمل کا رویہ نہ بدلتا اس کی اور شہر یار کی کزنز نے اس کے گھر آ نا چھوڑ دیا اس کی تمام سہلیاں اس سے دور ہوگئیں ان کے حلقہ احباب اور رشتہ داروں میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ زمل پسند نہیں کرتی کہ اس کے میاں کو کوئی آ نکھ اٹھا کر بھی دیکھے۔
ایک دن زمل اکیلی بیٹھی ٹی وی پر فلم دیکھ رہی تھی کسی غیر ملکی چینل نے حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں پیش آ نے والے واقعات کو فلمبند کیا تھا اس میں ایک سین تھا جب زلیخا نے مصری عورتوں کو اپنے محل دعوت پر بلایا تھا اور ان کے ہاتھ میں ایک ایک پھل اور چھری پکڑا دی تھی اور انھیں عین اس وقت پھل کاٹنے کا کہا تھا جب حضرت یوسف علیہ السلام وہاں آ جاتے اور حضرت یوسف پر نظر پڑتے ہی تمام عورتوں نے چھری سے اپنے ہاتھ زخمی کر لیے تھے۔
یہ سین دیکھ کر بجلی کی طرح زمل کے ذہن میں یہ خیال آ یا کیوں نہ وہ بھی زلیخا کی طرح ایسے ہی کرے اپنی سہیلیوں اور کزنز کو جو اس سے دور ہو گئی ہیں یہ باور کروانے کہ اس کا شوہر کس قدر وجیہہ ہے اور وہ اسے کتنی شدت سے چاہتی ہے یہ خیال آ تے ہی اس نے عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کر لیا ، اگلے ہفتے اس نے اپنی تمام دوستوں ، کزنز اور رشتہ دار خواتین کو بہت اصرار سے اپنے گھر دعوت پر بلایا سب سے لازمی آ نے کا وعدہ لیا ، اس دعوت کی خوب تیاری کی ، شہر یار کو دعوت کی نوعیت کا نہیں بتایا بس یہی کہا کہ صرف خواتین آ رہی ہیں میں جب آ پ کو بلاؤں گی تب آ ئیے گا –
دعوت والے دن تمام خواتین آ گئیں کیونکہ وہ بہت متجسس تھیں جب وہ سب اپنی اپنی جگہ پر برا جمان ہو گئیں تو زمل نے پھلوں کے ٹوکرے میں سے ہر خاتون کو ایک ایک پھل اور ایک ایک چھری پکڑاتے ہوے کہا یہ کاٹ کر کھائیے ، کھانا ابھی تیار ہو رہا ہے ، اور عین اسی لمحے شہر یار کے آ نے کا ٹائم ہو گیا ، شہر یار سامنے نمودار ہو چکا تھا وہ زمل کے کہنے کے مطابق خوب تیار تھا زمل نے ایک نظر اسے دیکھا دوسری نظر عورتوں پر ڈالی ، تمام خواتین بڑی رغبت سے پھل کھا رہی تھیں




